- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

مناجاتِ انبیاء علیہم السلام (پہلی قسط)

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالی کے مقرب، برگزیدہ اور مستجاب الدعوات بندے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ان کی دعائیں سنتے اور قبول کرتے ہیں۔ لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء کرام علیہم السلام پر آتی ہیں۔ آزمائش کی گھڑیوں میں ان کا طرز عمل کیا ہوتا ہے؟ وہ اللہ کی طرف کیسی عاجزہ کے ساتھ رجوع کرتے ہیں؟ ان کے دل سے کیا دعا نکلتی ہے؟ ان کا عزم اور یقین کس قدر مضبوط ہوتا ہے؟ سخت سے سخت امتحانات میں بھی ان کی تمام تر امیدیں اللہ تبارک و تعالی سے کس طرح وابستہ رہتی ہیں؟ وہ اپنی نگاہ اور توجہ ظاہری اسباب کے بجائے خالق اسباب کی طرف ہمیشہ کیسے مرکوز رکھتے ہیں؟ یہ سب کچھ ہمیں قرآن کریم بتاتا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
«إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ» (الانبیاء: ۹۰)
ترجمہ: ’’یقیناً یہ لوگ (انبیاء) بھلائی کے کاموں میں تیزی دکھاتے تھے، اور ہمیں شوق اور رغبت کے عالم میں پکارا کرتے تھے، اور ان کے دل ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔‘‘
عموماً لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو انبیاء کرام علیہم السلام تھے، اللہ تعالی کے مقرب اور برگزیدہ بندے تھے، ان کی دعا تو لازمی سنی جائے گی اور قبول بھی ہوگی، جبکہ ہم تو اللہ تعالی کے عام بندے ہیں اور گناہ گار بھی ہیں، ہماری دعائیں کہاں اور کیسے قبول ہوں گی؟ اس طرح کی سوچ رکھنا در حقیقت یہ وسوسہ اور مایوسی ہے جو شیطان کی طرف سے ہے، اللہ تعالی نے واضح اور صاف الفاظ میں اس وسوسہ اور مایوسی کو ختم کیا اور ارشاد فرمایا:
«وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ» (البقرۃ: ۱۸۶)
ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ ان سے کہہ دیجیے کہ) میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں، لہذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں، تا کہ وہ راہ راست پر آجائیں۔‘‘
انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس سے مانگا جائے تو اس پر گراں گزرتا ہے، جبکہ اللہ تعالی سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے، گویا عطائے خداوندی خود سائلوں کی تلاش میں رہتی ہے، اور گویا اس شعر کا مصداق ہوتی ہے کہ:
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
اللہ تعالی تو بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، البتہ دعا مانگنے کا طریقہ آنا چاہیے اور مذکورہ آیت کریمہ میں اس کی دو شرطیں بیان کی گئی ہیں:
۱۔ مانگنے والا میرا حکم ماننے والا ہو۔ ۲۔ اس کا ایمان اور یقین کامل ہو۔
ظاہر ہے کہ جب ہم کسی سے سوال کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر اس کی بڑائی، طاقت اور قدرت ضرور ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالی سے دعا مانگتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعا کو سن رہا ہے اور وہ اس کو قبول بھی ضرور کرے گا۔ ایک حدیث میں آتا ہے:
’’اللہ تعالی اس درجہ باحیا اور کریم ہے کہ وہ کسی دعا کرنے والے کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتا۔‘‘
اس لیے ہمیشہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ اگر ہماری مانگی گئی دعا فوراً قبول نہیں ہوئی تو یقیناً اس میں انسان کی بہتری ہوگی، کیونکہ انسان خود اپنی بھلائی کو جانچ نہیں سکتا۔ قرآن‘ خالق کا بندے سے ہم کلام ہونے کا نام ہے تو دعا بندے کا اپنے خالق سے ہم کلام ہونے کا نام ہے۔
اور یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ ہم جو دعا مانگیں وہ ہر حال میں قبول ہو، بلکہ احادیث طیبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کی شرائط و آداب کو بجا لاتے ہوئے مانگی ہوئی کوئی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاسکتی، بلکہ اللہ تعالی وہ دعا کسی اور شکل میں ضرور قبول فرما لیتے ہیں کیونکہ دعا کی قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں:
۱۔ دعا کا فوراً قبول ہوجانا۔
۲۔ مطلوبہ دعا کہ عرصہ بعد قبول ہونا۔
۳۔ مطلوبہ دعا کے بجائے اس سے بہتر صورت میں قبول ہوجانا۔
۴۔ آنے والی مصیبت کو دور کردیا جانا۔
۵۔ دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کردیا جانا۔
ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بندے کی دعا ہمیشہ شرفِ قبولیت سے نوازی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، اور جلدی نہ کرے۔ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کہ وہ کہے میں نے تو بہت دعا کی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوگی، پھر وہ مایوس ہوکر دعا ترک ہی کردے۔‘‘ (صحیح مسلم)
ذرا سوچیے! اللہ تعالی کا کلام ہو اور انبیاء کرام علیہم السلام کی دعا ہوتو بھلاوہ کیونکر قبول نہ ہوگی۔
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنے محبوب بندوں ۔انبیاء کرام علیہم السلام۔ کی مقبول دعائیں ذکر کرکے گویا ہمیں خود مانگنے کے گُر سکھائے ہیں، یقیناً یہ تو عطا کرنے کے بہانے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اللہ کی رحمت کیا ہوگی کی ہمیںیہ بھی سکھا دیا کہ کس طرح محبت بھرے عاجزانہ الفاظ و کیفیات میں اپنے رب کے سامنے دستِ سوال دراز کرو، یہ سب یقیناً اس لیے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے۔ جس وقت ہم دعا کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک ایسی لامتنا ہی قوت اور طاقت ور ذات سے جوڑ لیتے ہیں، جس نے اپنی قدرت سے فطرتاً ساری کائنات کی اشیا کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔
حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی دعاؤں کے الفاظ کی نقل میں دراصل وہ گوہر حاصل کرنا ہوتا ہے جو اِن برگزیدہ ہستیوں کے الفاظ میں پنہاں ہوتا ہے۔ اسی گوہر کے باعث وہی الفاظ دہرانے والے کی دعا شرفِ قبولیت حاصل کرلیتی ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے کس طرح مشکلات میں اللہ تعالی کو پکارا ہے اور اللہ تعالی نے ان کی فریاد اور پکار کو سن کر کس طرح انہیں مشکلات سے نجات دی۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی دعائیں درحقیقت انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے اور مالک حقیقی کے ساتھ صحیح ربط قائم کرنے کے طریقہ کی تعلیم ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت کو اپناتے ہوئے ہمیں بھی ان دعاؤں کو حفظ کرکے روزمرہ کی زندگی میں تلاوت اور پڑھتے رہنا چاہیے۔ اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے منقول دعاؤں پر ایک نظر ڈالی جائے اور ان کی مختصر تشریح پیش کی جائے۔

حضرات آدم و حوا علیہما السلام کی طلب مغفرت و رحمت کی دعا
«رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ»(الاعراف:۲۳)
’’اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔‘‘
تشریح: حضرت آدم اور حوا علیہما السلام نے ۔جب ان سے ایک لغزش ہوگئی تھی تو۔ معافی چاہنے کے لیے یہ دعا مانگی تھی، جو در حقیقت اللہ تعالی نے ہی سکھائی تھی، اور ان کلمات کی وجہ سے وہ دعا جلدی سے قبول بھی ہوگئی۔

اعترافِ قصور
حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو جیسے ہی تنبیہ ہوا تو بے ساختہ ان پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو غلطی کے شدید احساس کے بعد طاری ہوتی ہے اور فوراً اپنے رب کو پکارتے ہوئے کہا کہ: اے ہمارے رب! ہم کوئی عذر پیش نہیں کرتے کہ ہم سے یہ غلطی کیوں سرزد ہوئی، ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے یہ حرکت کرکے آپ کی شان میں کوئی کمی نہیں کی، بلکہ اپنے نفس کا نقصان کیا۔ ہم نے غلطی کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا، اب ہم اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ ہی سے دس بستہ پوری عاجزی کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ آپ ہماری اس غلطی کو معاف فرمادیں۔ ہم اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ آپ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، آپ ہم پر رحم فرمائیں اور ہمارے گناہ کو معاف فرمادیں، اس لیے کہ آپ نے اگر ہمیں معاف نہ فرمایا تو پھر ہماری نامرادی اور خسارے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جائے گی۔

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے رویے میں امتیازی فرق
اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گناہ شیطان سے بھی ہوا، جب اس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا، لیکن اس نے بجائے عجز و اعتراف کے انکار و بغاوت کا راستہ اختیار کیا اور ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ ہوگیا۔ اور لغزش حضرت آدم و حوا علیہما السلام سے بھی ہوئی، لیکن وہ فوراً اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ جھک گئے۔ حضرت آدم و حوا علیہما السلام کا طرز و انداز ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم اپنے اندر کبھی بغاوت و سرکشی کی جرأت پیدا نہ ہونے دیں، یہ ابلیس کا رویہ ہے۔ خدا نخواستہ اگر کبھی کوئی غلطی ہوجائے یا معصیت کے راستے پر چل پڑیں تو تنبہ ہوجانے کے بعد فوراً توبہ کا راستہ اختیار کریں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لیے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ امید ہے، کیونکہ یہ الفاظ خود اللہ تعالی ہی کے سکھائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی ہے جو اپنے اثر کے اعتبار سے انسان کے لیے زہر جیسی تھی تو دوسری طرف علاج کے طور پر انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکاوے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اُسے فوراً توبہ کرنی چاہیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے اور اللہ تعالی سے معافی مانگے، اس طرح شیطان کا چڑھایا ہوا زہر اتر جائے گا۔ (آسان ترجمہ قرآن)
جو شخص بھی اس آیت کو ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھ کر مغفرت کی دعا مانگے تو ان شاء اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے، کیونکہ یہ دعا حضرت آدم علیہ السلام کی ہے اور مقبول بھی ہوچکی ہے۔ (حضرت تھانوی رحمہ اللہ)

حضرت نوح علیہ السلام کی دُعائیں

سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا
«بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» (ھود: ۴۱)
ترجمہ: اس کا چلنا بھی اللہ کے نام سے ہے اور لنگر ڈالنا بھی۔‘‘

تشریح: ۔۔۔ طوفان کے وقت حضرت نوح علیہ السلام نے ایمان والوں کو اپنے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا اور سوار ہوتے ہوئے یہ دعا پڑھی، چنانچہ آپ کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ دعا میری امت کے لیے غرق ہونے سے اَمان کا موجب ہے۔ (تفسیر قرطبی)
معنی یہ ہیں کہ اس کشتی اور سواری کا چلنا بھی اللہ تعالی ہی کی قدرت اور اس کے نام سے ہے اور رُکنا اور ٹھہرنا بھی اسی کی قدرت کے تابع ہے، اگر انسان ذرا بھی عقل سے کام لے تو اس کو سائنس کی اعجوبہ کاری اور عروج کے اس زمانہ میں بھی اپنی بے بسی اور عاجزی ہی کا مشاہدہ ہوگا، اور اس اقرار کے بغیر نہ رہ سکے گا کہ ہر سواری کا چلنا اور رُکنا سب خالق کائنات حق تعالی ہی کے قبضہ میں ہے۔
دیکھنے میں تو یہ ایک دو لفظی فقرہ ہے، مگر غور کیجئے تو یہ کلید اور کنجی ہے‘ ایک ایسے دروازہ کی جہاں سے انسان اس مادی دنیا میں رہتے ہوئے روحانی عالم کا باشندہ بن جاتا ہے، اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں جمالِ حق تعالی کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے، یہیں سے مومن کی دنیا اور کافی کی دنیا میں فرق نمایاں ہوجاتا ہے، سواری پر دونوں سوار ہوتے ہیں، لیکن مومن کا قدم جو سواری پر آتا ہے وہ اس کو صرف زمین کی مسافت قطع نہیں کراتا، بلکہ عالم بالا سے بھی روشناس کردیتا ہے۔ (معارف القرآن)

لاعلمی کی حالت میں سوال سے بچنے کی دعائے مغفرت و رحمت
«رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ» (ھود: ۴۷)
’’میرے پروردگار! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔‘‘

تشریح:۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے کفر کا پورا حال معلوم نہ تھا، اس کے نفاق کی وجہ سے وہ اس کو مسلمان ہی جانتے تھے، اسی لیے اس کو اپنے اہل کا ایک فرد سمجھ کر طوفان سے بچانے کی دعا کر بیٹھے، ورنہ اگر ان کو حقیقت حال معلوم ہوتی تو ایسی دعا نہ کرتے۔ اصل حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے سوال پر اللہ تعالی سے عاجزانہ انداز میں استغفار اور طلب رحمت کی درخواست کی۔ سلسلۂ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول کی گئی، اللہ نے اس دعا کی نتیجے میں بطور قبولیت نزولِ برکت اور سلامتی کی بشارت دی، تا کہ ان کو تسلی ہوجائے۔
اس سے ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرلے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے، وہ جائز و حلال ہے یا نہیں؟ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں بحوالہ قاضی بیضاوی رحمہ اللہ نقل کیا ہے کہ جب اس آیت سے مشتبہ الحال کے لیے دعا کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی تو جس معاملہ کا ناجائز و حرام ہونا معلوم ہو، اس کے لیے دعا کاناجائز ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگیا۔
اور یہ بھی پتی چلتا ہے کہ انسان سے اگر کوئی خطا سرزد ہوجائے تو آئندہ اس سے بچنے کے لیے تنہا اپنے عزم و ارادہ پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ اللہ تعالی سے پناہ اور یہ دعا مانگے کہ یا اللہ! آپ ہی مجھے خطاؤں اور گناہوں سے بچاسکتے ہیں۔
آج کل کے مشائخ میں جو یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ جو شخص کسی دعا کے لیے آیا اس کے واسطے ہاتھ اٹھادیئے اور دعا کردی، حالانکہ اکثر اُن کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس مقدمہ کے لیے یہ دعا کرا رہا ہے اس میں یہ خود ناحق پر ہے یا ظالم ہے، یا کسی ایسے مقصد کے لیے دعا کرا رہا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں، کوئی ایسی ملازمت اور منصب ہے جس میں یہ حرام میں مبتلا ہوگا، یا کسی کی حق تلفی کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے گا، ایسی دعائیں حالت معلوم ہونے کی صورت میں تو حرام و ناجائز ہیں ہی، اگر اشتباہ کی حالت بھی ہو تو حقیقت حال اور معاملہ کے جائز ہونے کا علم حاصل کیے بغیر دعا کے لیے اقدام کرنا بھی مناسب نہیں۔ (معارف القرآن)

حقیقت بیانی پر جھٹلائے جانے کی صورت میں نصرتِ الہی کی دعا
«رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ» (المومنون: ۲۶)
ترجمہ: ’’یا رب! ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘

تشریح: ۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے آپ کی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے کے بجائے آپ کو اور آپ کی دعوتِ توحید کو جھٹلایا تو اس وقت حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے مدد اور نصرت کی دعا مانگی، حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کے نتیجے میں اللہ تعالی نے انہیں کشتی بنانے کا حکم دیا اور اس کے ذریعہ طوفان سے نجات عطا فرمائی۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی سچا ہو اور لوگ اُسے جھٹلا رہے ہوں یا جھوٹا سمجھ رہے ہوں تو اُسے یہ دعا کثرت سے مانگنی چاہیے۔

فتح، فیصلہ طلبی اور دشمنوں سے نجات کی دعا
«رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ ﴿۱۱۷﴾ فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَنْ مَعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿۱۱۸﴾» (الشعراء: ۱۱۷۔۱۱۸)
ترجمہ: ’’میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے، اب آپ میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیجیے، اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچالیجیے۔‘‘

تشریح: ۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نوسو سال تک اپنی قوم کے لوگوں کو حق کی طرف بلاتے رہے، مگر انہوں نے آپ کی بات نہ مانی، آپ کو جھٹلاتے رہے، حتی کہ قوم والوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر نوح کو پتھر ماریں، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائیں، ساڑے نوسو برس سختیاں جھیل کر بھی قوم والے راہ راست پر نہ آئے تو حضرت نوح علیہ السلام نے خدا سے فریاد کی کہ اب ان بدبختوں کے مقابلہ میں میری مدد فرمایئے، کیونکہ بظاہر یہ لوگ میری تکذیب سے باز آنے والے نہیں، چنانچہ حضرت نوح کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے قوم کو طوفان سے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرمایا اور مومنوں کے بچاؤ کی تدبیر ارشاد فرمائی۔
حضرت نوح علیہ السلام کی مذکورہ دونوں دعاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو حق پر ہونے کے باوجود جب جھٹلایا گیا تو وہ مایوس نہیں ہوئے، بلکہ تکذیب کے باوجود اللہ کے حضور مدد اور نصرت کی دعائیں مانگتے رہے، نیز جب انسان سچا ہو اور صراطِ مستقیم پر ہو اور لوگ اُسے جھٹلا رہے ہوں، تو اُسے گھبرانا نہیں چاہیے، انجام کار اللہ کی مدد اور نصرت ان شاء اللہ! شاملِ حال ہوگی۔

سفر، سواری اور نئے شہر میں حفاظت و برکت کے لیے دعا
«رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ» (المومنون: ۲۹)
ترجمہ: ’’رب! مجھے ایسا اترنا نصیب کر جو برکت والا ہو، اور تو بہترین اُتارنے والا ہے۔‘‘

تشریح: ۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے یہ ہدایت فرمائی کہ جب کشتی میں سوار ہوجائیں تو پہلے ظالموں سے نجات ملنے پر اللہ کا شکر ان الفاظ سے ادا کریں:
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ» (المومنون: ۲۸)
ترجمہ: ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔‘‘
پھر حضرت نوح علیہ السلام کو حکم ہوا یہ دعا پڑھیں:
«رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ» (المومنون: ۲۹)
یعنی کشتی میں اچھی آرام کی جگہ دے اور کشتی سے جہاں اتارے جائیں، وہاں بھی کوئی تکلیف نہ ہو، ہر طرح اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔ (تفسیر عثمانی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ (تفسیر قرطبی)
اس کو پڑھنے سے سواری تمام آفات سے محفوظ رہتی ہے اور نیز گھر میں پڑھنے سے چور، دشمن، اور جن و غیرہ سے حفاظت رہتی ہے، جب کسی شہر میں داخل ہونے لگے تو اس آیت کو پڑھ لے، ان شاء اللہ تعالی! وہاں خیر خوبی سے بسر ہوگی۔ (حضرت تھانوی رحمہ اللہ)

غلبہ و نصرت کے حصول کی دعا
«فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» (القمر: ۱۰)
ترجمہ: ’’اس پر انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ میں بے بس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔‘‘

تشریح: ۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے جب ان کی تکذیب میں حد کردی اور جھوٹا اور مجنون کہا تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ: «أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» (القمر: ۱۰)۔۔۔ ’’میں بے بس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔‘‘
چنانچہ اس دعا کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والوں کو ان پر غلبہ نصیب ہوا، اور وہ لوگ طوفان میں غرق ہوکر تباہ و برباد ہوئے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی ایسے سنگین حالات سے گزرنا پڑا ہے کہ وہ خود کو مغلوب محسوس کرتے رہے ہیں، لیکن اس سے نہ ان کی استقامت میں کوئی فرق آیا اور نہ ان کے حوصلے پست ہوئے، بلکہ اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے اس سے نصرت کی دعا کی، اس دعا میں ان مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سامان ہے جو حق پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مغلوب پارہے ہوں، بہر حال مغلوب ہونے کی حالت میں اس دعا کو کثرت سے مانگنا چاہیے۔

اپنی اور اپنے والدین نیز تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت کی دعا
«رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ» (نوح: ۲۸)
’’میرے پروردگار! میری بھی بخشش فرمادیجیے، میرے والدین کی بھی، اور ہراس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہوا ہے اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی۔‘‘

تشریح: ۔۔۔ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا ہے، جو انہوں نے اپنے، اپنے والدین اور تمام مومنین و مومنات کے لیے مانگی تھی، سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی، تا کہ یہ ظاہر ہو کہ انسان سب سے زیادہ خود اللہ تعالی کی مغفرت کا محتاج ہے، پھر اپنے والدین کے لیے دعا کی، کیونکہ اللہ تعالی کے بعد انسان پر سب سے زیادہ احسان اس کے والدین کا ہے، والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا، ان کے ساتھ احسان کرنا ہے، اسلام کی یہی تعلیم ہے، اس کے بعد تمام مومنین کے لیے دعا کی، حضرت نوح علیہ السلام نے اس صراحت کے ساتھ دعا کی کہ جو شخص بھی میرے گھر میں مومن بن کر داخل ہوا اُس کی مغفرت فرما، ساتھ ہی انہوں نے عمومیت کے ساتھ تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی دعائے مغفرت کی۔
گویا دعا مانگنے کا طریقہ بھی سکھا دیا کہ مغفرت کی دعا کن الفاظ سے مانگی جائے، اور یہ بھی بتادیا کہ دعا میں خود غرضی یعنی صرف اپنی ذات کے لیے دعا نہ ہو، بلکہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین اور پوری امت کے لیے بھی اللہ سے دعا کی جائے۔
جاری ہے۔۔۔

مولانا محمدعمر انور بدخشانی
ماہنامہ بینات۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی
جمادی الأخریٰ اور رجب ۱۴۳۷ھ