- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

تحقیق کے بغیر الزام لگانا خطرناک ہوسکتاہے

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے اپنے انیس فروری (دس جمادی الاولی) کے خطبہ جمعہ میں بزرگوں کے احترام کرنے اور آداب کی خیال داری پر زور دیتے ہوئے فرقہ واریت اور غلط فہمی سے پرہیز کو ضروری قرار دیا۔
زاہدان میں فرزندانِ توحید سے خطاب کے آغاز میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سورت الحجرات کی آیت نمبر گیارہ کی تلاوت کے بعد گویا ہوئے: اللہ تعالی نے سورت الحجرات کے ذریعے بہت ساری ہدایات عطا فرمائی ہے جن پر عمل کرکے ہم ایک صحتمند اور آرام زندگی کی نعمت حاصل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے سورت الحجرات کی روشنی میں گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے اس سورت کے آغاز میں بزرگوں اور بڑوں کے احترام خاص کر اللہ تعالی کی ذات اور نبی کریم ﷺ کے احترام و عزت پر زور دیاہے۔ ہر شخص کو اس کی حد اور مقام کے مطابق عزت دینی چاہیے اور اس کا احترام کرنا اسی حد تک ضروری ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کو جو بڑوں اور بزرگوں کے ادب کا خیال نہیں رکھتے، عقل سے عاری قرار دیاہے۔ مہذب لوگ آداب کا خیال رکھتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہمیں حکم دیاہے اگر کوئی نالائق اور فاسق شخص کوئی خبر لے کر تمہارے پاس آجائے، تم اس کی تحقیق کیاکرو اور سوچے سمجھے بغیر کوئی اقدام نہ اٹھاو۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: کتنے ہی بے گناہ لوگ دوسروں کی حماقت اور جذباتی فیصلوں کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ قاتلوں نے سوچا کہ اپنے بھائی کا بدلہ لیا مگر تحقیق کے بعد پتہ چلا قاتل کوئی اور شخص تھا اور غلطی سے ایک بے گناہ شخص کو موت کی ابدی نیند سلادیا گیا۔ ایسے ہی اقدامات سے کئی قبائلی لڑائیاں پیدا ہوگئی ہیں۔

فرقہ واریت دین و دنیا کے لیے نقصان دہ ہے
مولانا عبدالحمید نے فرقہ واریت اور تشتت کے نقصانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: کتاب و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے اختلاف اور فرقہ وایت سے نہ صرف انسان کی دنیا خراب ہوتی ہے بلکہ اس کے دین پر بھی نقصان آتاہے۔ اختلاف و انتشار سب کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص حق بجانب ہونے کے باوجود کنارہ کشی کرے، تو جنت کے وسط میں اس کے لیے ایک شاندار کوٹھی بنادی جائے گی اور حق بجانب نہ ہونے کی صورت میں جنت کے کنارے میں اسے ایسا مکان مل جائے گا۔
انہوں نے کہا: تنازعہ اور اختلافات سے بھاگ جانا بہت اہم ہے۔ تنازعات کی وجہ سے معاشی، ثقافتی اور مذہبی نقصانات پیش آتے ہیں۔ اختلاف کے بعد فریقین جھوٹ، غیبت، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو حقیر قرار دینے کی کوشش کریں گے جو نفرت و دشمنی کی شکل میں اس کا نتیجہ نکل آئے گا۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ تعالی نے مذاق اڑانے اور تکبر سے منع فرمایاہے۔ عرب کو عجم پر اور عجم کو عرب پر کوئی برتری نہیں ہے۔ سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے ہے۔ لہذا ہمیں تکبر اور غرور کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ لوگوں کو برے ناموں سے نہیں پکارنا چاہیے۔ برتری کا معیار صرف تقوی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اس حصے کے آخر میں بدگمانی سے بچنے پر زور دیتے ہوئے کہا: معاشرے میں بدگمانی عام ہوچکی ہے اور لوگ اندازہ لگاکر بدگمان ہوجاتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے بارے میں نیک گمانی سے کام لینا چاہیے۔ دوسروں کے عیوب چھپانا چاہیے۔ دیگر لوگوں کے عیبوں کے پیچھے مت پڑیں مگر شادی یا تجارتی معاہدوں کی صورت میں یا استاذ و مرشد انتخاب کرنے کی صورت میں تحقیق کی جاسکتی ہے۔

امیدوار اور ان کے حامی الزام تراشی اور جھوٹ سے پرہیز کریں
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوسرے حصے میں ایران میں پارلمانی انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام امیدواروں اور ان کے حامیوں کو نصیحت کی اسلامی اخلاق کا خیال رکھیں۔
زاہدان کے خطبہ جمعہ میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے انتخابی مہم کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجلس شورا اور مجلس خبرگان کے انتخابات انتہائی اہم ہیں۔ دنیا میں مختلف ادارے ہمارے انتخابات اور انتخابی عمل کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور جوش و جذبے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: چونکہ انتخابات میں متعدد امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور ان کے حامی بھی ہیں، لہذا سب کو چوکس رہنا چاہیے اور سختی کے ساتھ جھوٹ اور الزام تراشی سے پرہیز کریں۔ دوسرے فریق کی توہین اور انہیں حقیر سمجھنا انتہائی غلط اقدام ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بطور خاص دیکھا جاتاہے کہ کچھ لوگ الزام تراشی سے کام لیتے ہیں؛ انہیں خدا اور آخرت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ جھوٹ بولنا اللہ تعالی کی ناراضی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے سچائی پر زور دیتے ہوئے کہا: امانت اور دیانت کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اور اپنا ووٹ دیانتداری سے استعمال کریں۔ دیانتداری اور سچائی اسلامی اخلاق میں سب سے اہم اقدار میں شمار ہوتی ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا: ہمیں اپنا حق رائے دہی احتیاط اور امانتداری سے استعمال کرنا چاہیے۔ سب کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ بہترین، باصلاحیت اور تجربہ کار امیدواروں کو ووٹ دیں جو عوام کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواتین کو بھی بطور خاص انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال کرنے کا موقع دیا جائے اور انہیں پولنگ سٹیشنز پہنچایاجائے۔