نائجیریا اپنی پوری قوم کا خیال رکھے

ایران کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے نائجریا میں پیش آنے والے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نائجیرین حکومت اور فوج کو مشورہ دیا اپنے عوام کا خیال رکھیں اور اقلیتوں کی دل آزاری سے بچیں۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، زاہدان کے خطیب جمعہ نے اٹھارہ دسمبر دوہزار پندرہ کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں نائجیریا میں پیش آنے والے واقعے کو ’چونکا دینے والا‘ یاد کرتے ہوئے کہا: ہر حادثہ اور چپقلش جو مذہبی و فرقہ وارانہ ہو، اس کا وقوع بہت خطرناک ہے۔ عالم اسلام کے لیے فرقہ وارانہ لڑائیوں سے بڑھ کر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جو شخص فرقہ واریت کو ہوا دیتا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہو، وہ معافی کے لائق نہیں ہے۔ انتشار و اختلاف خاص کر مذہبی اختلاف بہت خطرناک مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: نائجیرین حکومت اور آرمی کو چاہیے پوری قوم کا خیال رکھیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی، مسلم ہوں یا عیسائی و یہودی، یہ سب نائجیرین قوم کے حصے ہیں۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے اپنی قوموں کا دفاع کریں اور فرقہ واریت و انتشار کی روک تھام کے لیے کوشش کریں۔
رابطہ عالم اسلامی کی مرکزی مجلس کے رکن نے کہا: ممکن ہے ہمیں صحیح طورپر معلوم نہ ہو نائجیریا میں ایک اقلیتی شیعہ گروہ کے ساتھ کیا ہوا اور کیوں بعض لوگ مارے گئے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی حکومت کو حق نہیں ہے اپنی اقلیتوں کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنائے۔
انہوں نے مزیدکہا: افسوس کا مقام ہے کہ پوری دنیا میں اقلیتیں دباو میں ہیںاور انہیں امتیازی سلوک اور ظلم کا سامنا کرناپڑ رہاہے۔ عقل، منطق، روایات، قانون اور بین الاقوامی کنونشز کی رو سے دنیا کی تمام اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور ان کے حقوق پر توجہ دینی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: تمام حکومتوں خاص کر نائجیریا کی حکومت کو میری نصیحت یہی ہے کہ اپنی اقلیتوں، چاہے ان کا تعلق اہل تشیع سے ہو یا اہل سنت سے، سب کا خیال رکھیں۔ حتی کہ اقلیتوں کی دیگر طبقوں کی بہ نسبت زیادہ خیال داری کرنی چاہیے اور انہیں احترام اور توقیر کرنی چاہیے۔ اگر نائجیریا میں شیعہ اقلیت کے ساتھ کوئی ناروا سلوک ہوا ہے تو حکومت کو چاہیے ان کی رضامندی حاصل کرکے انہیں انصاف فراہم کرے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: مہذب اور تعلیم یافتہ اقوام اور لائق حکومتیں اپنی اقلیتوں پر بہتر انداز میں توجہ کرتی ہیں اور ان کے حقوق کا خیال رکھتی ہیں۔ اگر کوئی حکومت اپنی اقلیت کی حفاظت نہ کرسکے اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے اور ان کے مذہبی مکانات پر حملے ہوجائیں، یہ سب اس قوم اور حکومت کی کمزوری اور فکری نااہلی کی نشانی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے یاددہانی کرتے ہوئے کہا: جو کچھ ثابت ہوچکاہے، یہی حقیقت ہے کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی بعض اسباب کے فطری نتائج ہیں جن میں دباو، ظلم وجبر اور حقوق کی پامالی شامل ہیں۔
اپنے خطاب کے آخری حصے میں عالمی ایٹمی انرجی ایجنسی میں ایران کے ’جوہری ہتھیار‘ کی تحقیقات کے اختتام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے کہا: الحمدللہ پے درپے مذاکرات کے نتیجے میں دنیا اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار کا ارادہ نہیں رکھتاہے۔ یہ بڑی کامیابی پوری قوم، تدبیر وامید کی حکومت اور مرشداعلی کے لیے ہے جنہوں نے مذاکرات کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا: امید ہے اس فائل کے خاتمے کے مثبت نتائج جلدازجلد ظاہر ہوجائیں۔ عنقریب معاشی پابندیوں کے خاتمے سے ان شاءاللہ ملک میں معاشی فراخی آئے گی اور پوری قوم کو اس کے مثبت نتائج حاصل ہوجائیں گے۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago