- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

حاجی ملا عبداللہ امینی انتقال کرگئے

سنندج (سنی آن لائن) ایرانی کردستان کے ممتاز سنی عالم دین، ماموستا حاجی ملا عبداللہ امینی بقضائے الہی جمعہ گیارہ دسمبر کی شام کو سنندج میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
’سنی آن لائن‘ نے ’اسلام کرد‘ نامی ویب پورٹل کے حوالے سے رپورٹ دی ہے ماموستا امینی جید عالم دین اور معروف دینی رہ نما کاک حسن امینی کے سگے بھائی ہیں۔ ان کا سانحہ ارتحال ایرانی کردستان کے صدرمقام سنندج شہر کے ایک مقامی اسپتال میں رونما ہوا جہاں وہ دل کی بیماری کی وجہ سے زیرعلاج تھے۔
ماموستا ملا عبداللہ امینی رحمہ اللہ کی پیدائش 1940ء کو صوبہ کردستان کے ضلع سقز کے ایک دیندار گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد ملا عبیداللہ امینی، تموغہ قریہ کے خطیب جمعہ و پیش امام تھے۔ اپنے آباواجداد کی رسم پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اپنے تین بیٹوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر مکتب خانوں میں داخل کرایا۔
آپ کے اساتذہ میں ماموستا ملا محمد عزیزی، ملا عبدالرحمن طاہری، ملا عبداللہ محمدی اور والد ملا عبیداللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ملاعبداللہ امینی رحمہ اللہ نے تدریس و افتا میں اجازت حاصل کرنے کے بعد پیش امامی کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا سلسلہ اپنے گاوں میں جاری رکھا۔
مرحوم ایران کے عوامی انقلاب کے پرجوش حامی تھے اور جابر شاہی حکومت کے خلاف جدوجہد کا حصہ رہے۔ آپ 1984 میں سقز شہر منتقل ہوئے جہاں آپ نے معراج مسجد میں امامت و خطابت کا عہدہ سنبھالا۔ ایک حجرے میں دینی تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ماموستا ملا عبداللہ امینی اچھے اخلاق اور علم وفضل میں شہرہ عام و خاص تھے اور آپ کی مجالس میں بڑی تعداد میں عوام اور طلبہ شرکت کیا کرتے تھے۔
آپ کی وفات پر شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، خطیب اہل سنت زاہدان نے تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے ماموستا کاک حسن امینی ، کرد عوام اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیاہے۔
’سنی آن لائن‘ ٹیم بھی اس عالم باعمل کے سانحہ ارتحال پر رنج و غم کا اظہار کرکے مرحوم کی مکمل مغفرت کے لیے دعاگو ہے۔