اہلسنت ایران کے ممتاز دینی ادارہ دارالعلوم زاہدان کے فضلائے کرام جو کاروبار کی دنیا سے منسلک ہیں، اٹھائیس نومبر دوہزار پندرہ کو جامعہ کے دفتر اہتمام میں اکٹھے ہوکر شیخالاسلام مولانا عبدالحمید سے ملاقات و گفتگو کی۔
’سنی آنلائن‘ کے نامہ نگاروں کے مطابق ضلع زاہدان میں رہنے والے دارالعلوم زاہدان کے فضلا کا جلسہ ’شورائے فضلائے دارالعلوم زاہدان‘ کی جانب سے منعقد ہوگیا۔ اس جلسے میں درجنوں فضلا شریک تھے۔
اس سے تقریبا ایک ماہ قبل، ضلع زاہدان اور آس پاس کے علاقوں کے تمام فضلائے دارالعلوم زاہدان جامعہ میں اکٹھے ہوچکے ہیں جہاں سینئر اساتذہ سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں اور باہمی گفت وشنید کا موقع بھی انہیں مل گیا۔
صدر و شیخالحدیث دارالعلوم زاہدان نے اپنے دفتر میں فضلا کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خوش آمدید کہنے کے بعد گویا ہوئے:
دین کے درد رکھنے والے اور اس کی خیرخواہی کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے؛ اسی طرح مخلص و متقی علما کی تعداد بھی کم ہے۔ مفید و مخلص علمائے کرام معاشرے کی ضرورت ہیں۔
دینی مدارس کے فضلا سے توقع یہی ہے کہ کئی سال محنت اور جدوجہد کرنے کے بعد خود کو پوری طرح اسلام کے لیے وقف کر رکھیں۔
فضلاء کو چاہیے معاشرے پر اثر ڈالیں لیکن دوسروں سے ہرگز متاثر نہ ہوں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ آپ کے تقوا، سچائی اور استقامت سے متاثر ہوجائیں۔
افسوس کا مقام ہے ہم بازاروں اور دوکانوں میں گم ہوچکے ہیں؛ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارا تعلق خالق سے کمزور ہوچکاہے۔ اسی لیے جب ہم بازاروں میں جاتے ہیں تو غفلت اور پیسے کی محبت دل میں گھس جاتی ہے۔ یہ پریشانکن مسئلہ ہے۔
میری آپ علمائے کرام سے درخواست ہے کہ اپنا کاروبار کسی اور معتمد شخص کے حوالے کریں اور خود کو دین کے لیے وقف کریں۔ اگر اس کا امکان نہیں ہے تو دن میں کوئی نہ کوئی وقت نکالیں اور پڑھانے یا تبلیغ کرنے کا اہتمام کریں۔
دارالعلوم زاہدان میں منعقد ہونے والے جلسوں میں شرکت کریں اور اپنی مادر علمی سے تعلقات قائم رکھیں۔