قرآن سے دوری مسلمانوں کے مسائل کی اصل وجہ ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے پچیس ستمبر دوہزار پندرہ کے خطبہ جمعہ میں قرآن پر عمل اور اس کی تلاوت پر زور دیتے ہوئے ’قرآن سے دوری‘ کو مسلمانوں کے تمام مسائل کی بنیادی وجہ قرار دی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے گیارہ ذوالحجہ کے خطبہ میں اپنے خطاب کا آغاز قرآنی آیات: «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» اور «يا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: آج کا مسلم معاشرہ متعدد مسائل و مشکلات سے دوچار ہے اور اس کی وجہ قرآن سے دوری ہے۔ مسلمان بشمول حضرات و خواتین، علما و حفاظ کرام، اساتذہ و مدرسین اور نوجوان سب قرآن سے دور جاچکے ہیں۔ مسائل، خشکسالیوں اور ناکامیوں کی ایک وجہ یہی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: لکھاریوں کی مثال لے لیں؛ اگر کوئی لکھاری یہ دیکھے کہ اس کی کتاب پڑھی جاتی ہے تو اسے بڑی خوشی ہوجاتی ہے۔ اگر آپ سے پوچھ لے کیا آپ نے اس کی کتاب پڑھی ہے اور آپ کا جواب ہو: میں نے دیکھاہی نہیں، تو یہ اس کے لیے ناراضگی کا باعث ہوگا۔ لیکن مثبت جواب سے اسے خوشی ہوجاتی ہے اور یہ اس کے لیے ہر قسم کی تواضع سے بڑھ کر ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: مولانا رومی میدان عرفات میں کثرت سے تلاوت کرتے تھے؛ چونکہ دعا کی صورت میں سب سے بہتر طریقے سے اسی کی دعا قبول ہوتی ہے جو زیادہ تلاوت کرتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے قرآن پاک کو ہدایت و رحمت کی کتاب یاد کرتے ہوئے کہا: قرآن پاک کی تلاوت سب سے بڑا ذکر ہے۔ قرآن پاک ہدایت و رحمت اور نور کی کتاب ہے جس کی تلاوت سے دل میں نور پیدا ہوتاہے۔ سورہ فاتحہ کی تلاوت سے پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملتاہے۔ لہذا جس قدر ہوسکے قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے۔

دین و دنیا کی ترقی علم کے بغیر ممکن نہیں
ممتاز عالم دین نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں سرکاری سکولوں اور کالجوں کے کھولنے اور نئے تعلیمی سال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: علم، تعلیم اور سیکھنا اللہ تعالی کی سب سے بہترین نعمتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دین و دنیا کی ترقی کا راز علم ودانش میں ہے اور اس کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: علم ایک آسمانی تحفہ اور عنایت ہے، اس کا استقبال کریں۔ اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے کی اجازت مت دیں اور ان کی تعلیم پر توجہ دیں۔ کم ازکم ہر گھر میں ایک ڈاکٹر و ماہر کی تربیت ہونی چاہیے۔

منا میں بھگدڑ کا واقعہ افسوسناک ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ جمعہ کے آخر میں منا میں بھگدڑ مچنے پر سینکڑوں حاجیوں کے انتقال پر گھرے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو بہت سنگین قرار دیا۔
انہوں نے کہا: اس نقصان سے معلوم ہوتاہے سعودی حکام حجاج کے لیے مزید منصوبہ بندی کریں اور اس حوالے سے مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ مزید توجہ دیں۔ اللہ تعالی اموات کی مکمل مغفرت فرمائے اور مستقبل میں ہمیں ایسے واقعات سے حفاظت فرمائے۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago