- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام

بھارت رتن میزائل مین پدم شری وبھوشن اور نہ جانے کتنے قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازے جانے والے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی موت پر پورا ملک سوگوار ہے جہاں ایک طرف ہندوستانی عوام میں صف ماتم بچھ گئی اور ہر ہندوستانی بالخصوص وہ نوجوان طبقہ غم والم کی جیتی جاگتی تصویر بنا ہوا ہے وہیں دوسری طرف حکومت نے بھی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جیسی عبقری اور مقبول خاص وعام شخصیت کو شایان شان خراج عقیدت پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور صدر جمہوریہ ہند ،نائب صدر جمہوریہ، وزیراعظم نریندر مودی سمیت تمام اہم شخصیات اور پرنٹ والکٹرونک میڈیا یہاں تک کہ سوشل میڈیا تک پر جس انداز سے انہیں خراج عقیدت پیش کیاگیا وہ ملک کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستان میں یا دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی بھی رہنما کی موت پر غم والم کے اظہار کے ایسے بہت کم مناظر دیکھنے میں آتے ہیں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنی زندگی میں بھی شہرت مقبولیت کی انتہائی بلندی پر فائز تھے اور ان کی موت نے تو ذات پات مذہب علاقہ زبان امیر غریب اور اونچ نیچ کی ساری دیواریں گرادیں اور پوری قوم جسد واحد بن کر انہیں خراج عقیدت پیش کررہی ہے۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ملک کے گیارہویں اور تیسرے مسلمان صدر جمہوریہ تھے ان سے پہلے بھی ملک میں دو مسلمان صدر جمہوریہ ہوئے لیکن ڈاکٹر ذاکر حسین اور فخرالدین علی احمد دونوں مجموعی طور پر بھی پانچ سال پورے نہیں کرسکے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے راشٹرپتی بھون میں پانچ سال مکمل کیے اور اس عہدے کی عظمت اور وقار میں چار چاند لگادئے۔ صدرجمہوریہ ہند سے پہلے ڈاکٹر عبدالکلام بھارت رتن بن چکے تھے وہ ایک عظیم سائنسداں تھے انہوں نے میزائل پروگرام اور پوکھران ایٹمی دھماکہ کرنے والے سائنسدانوں کی قیادت کرکے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیاتھا اور صدر جمہوریہ بن کر اپنے وجود کو سند جواز بخشا تو دوسری طرف 2007اور 2012ء کے صدارتی الیکشن کے موقع پر کچھ پستہ قدسیاست دانوں نے ان کو دوبارہ صدر جمہوریہ بنانے کا شوشہ چھوڑ کر اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کی۔
ہرقسم کے تنازعات اور ہرقسم کی حد بندیوں سے بالاتر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام تمام ہندوستانیوں کے لیے مشعل راہ اور مینارہ نور کی حیثیت رکھتے تھے عہدہ صدارت کی جکڑ بندیوں سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ملک وقوم کی ترقی کے لیے وقف کردیا میک ان انڈیا اور میڈ ان انڈیا کا فلسفہ سب سے پہلے انہوں نے ہی پیش کیا تھا ہندوستانی نوجوانوں کی توانائی اور تحقیقی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا اور وہ بلا مبالغہ آخری دم تک ان نوجوانوں کی شخصیت کوبنانے سنوارنے اور نکھارنے کا کام کرتے رہے اور اسی دوران انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہوں نے ہندوستانی نوجوانوں کو ’’ستاروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ کا درس دے کر 2020تک ہندوستان کو پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کی صف سے نکال کر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لا کھڑا کرنے کا ایک عملی خاکہ پیش کیاتھا ان کی موت پر ممنون قوم نے جن جذبات کا اظہار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پوری قوم اپنے رہنما کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہے۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایک عظیم سائنسداں انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہونے والی ایک بے مثال شخصیت ہونے کے ساتھ ایک انتہائی بلند پایہ انسان بھی تھے ان کے اندر سادگی انکساری حلم تواضع بے نفسی اور وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو کسی انسان کو اعلیٰ وارفع بناتی ہیں۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام پیدائش سے موت تک ہر معاملہ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ ایک عظیم سپوت سے محرومی پر سب سے زیادہ صدمہ ان بچوں کو ہوا ہے جنہیں جواہر لال نہرو کے بعد اے پی جے عبدالکلام کی شفقت سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہوگئی تھی۔ بہرحال موت ہر کسی کو آنی ہے ڈاکٹر عبدالکلام بھی اس دارفانی سے کوچ کرگئے لیکن اپنی شخصیت اور کارناموں کی شکل میں جو وراثت چھوڑ گئے ہیں وہ ان کی یاد کو دوام بخشنے اور ہر مشکل مرحلہ میں ملک وقوم کی رہنمائی کے لیے کافی ہے۔

عبدالرحمن صدیقی: (ایگزیکٹیو ایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی)
بصیرت فیچرس