(۱) اسلامی ذرائع ابلاغ (میڈیا) کی بنیاد سچائی و راست بازی پر ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کا آغاز ہی صدق امانت اور راست گوئی سے ہوئی، اسی کو دلیل و رہنما بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا کی بلندی سے قبائل سے خطاب کیا تھا، آپ نے اسی صدق کی دولت سے مالامال ہونے کی تصدیق جب کرالی تو پھر آپ نے دینی دعوت کے بنیادی اصول پیش فرمائے، ذوق و وجدان اور سلامت زبان اور صدق و صفا کے التزام کی پابندی کی دعوت اسلام کی بنیادی اور اولین دعوت ہے سورہ زمر میں ہے (و الذی جاء بالصدق و صدق بہ اور فمن اظلم ممن کذب علی اللہ و کذب بالصدق اذ جاۂ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے صادق و امین ہونے کی شہادت دلوادی تو پھر آپ نے دینی دعوت پیش فرمادی، اس لئے کہ اگر کسی کے بارے میں ایک بار بھی جھوٹ کا تجربہ ہوجا تا ہے تو پھر اس پر اعتبار نہیں کیا جاتا۔
ایسے وقت میں جب کہ بیکاری کی سیاست کا بول بالا اور ہر طرح جھوٹے پروپیگنڈے اور مکر و فریب کی حکمرانی ہے، تنہا اسلامی میڈیا سے ہی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں حقیقت شناسی اور راست بازی سے کام لے گا، اور خواہ حقائق کتنے تلخ ہوں انھیں پیش کرکے ان لوگوں کو امن و امان کے ساحل سے ہمکنار کرے گا جو جھوٹے پروپیگنڈہ کے تنکے پر بیٹھے طوفان بلاخیز سے کھیلنے کی سعی نامراد کررہے ہیں۔
(۲) پاکیزہ اور بلند مقاصد:
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ جن مقاصد کے فروغ اور نشر و اشاعت کو اپنا نصب العین بنالیا ہے وہ حسب ذیل ہیں، مختلف انسانی طبقات اور قوموں کے درمیان عداوت اور کینہ و نفرت و اختلافات کو ہوا دینا، دولتمندوں کے خلاف مفلسوں اور محتاجوں کو ابھارنا، اکثریت کو اقلیت کے خلاف اور اس کے برعکس اقلیت کو اکثریت کے خلاف مشتعل کرنا، قومی و علاقائی عصبیت اور جاہلی نعروں کو فروغ دینا، اپنے اسلحہ کو فروخت کرنے اور اپنے جنگی اسلحہ سازکار خانوں کو مصروف کار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ پیسے سمیٹنے کے خاطر مختلف قوموں اور دو پڑوسیوں کے درمیان جنگ کا بگل بجانا، اور جنگی فضا پیدا کرنا تا کہ دنیا تباہ اور ان کا ملک آباد و خوشحال ہو، یہ میڈیا اپنی حکومتوں کی آنکھوں کے شہتیر کو نظر انداز اور اپنی غلطیوں اور برائیوں پر دبیز پردے ڈالتا ہے، دوسری ملکوں کی آنکھوں کا تنکا اس کو شہتیر اور رائی پر بت نظر آتا ہے، ہر فحاشی و بدکاری کی سرپرستی میں پیش پیش رہتا ہے، ملحدوں، بے دین عناصر کی سرپرستی، ان کا دفاع، معاشرہ کے شیرازہ کو بکھرنے اور اس کو انتشار و انار کی کی راہ پر ڈالنے میں سرگرم رول ادا کرتا ہے، چند ٹکے کے عوض اپنے ایمان کا سودا آسانی سے کرلیتا ہے، اور معمولی سکوں کے بدلے ناحق خون بہانے، کردار کشی، حقائق کو مسخ بلکہ ان کو پیروں تلے روند نے اور اصول و مبادی حتی کہ عقائد تک سے دستبردار ہونے کے لئے تیار رہتا ہے، اس کے برعکس اسلامی میڈیا وسیع تر انسانیت کے مفاد و مصالح کا محافظ، اور امن و سلامتی اور معاشرہ انسانی کے شیرازہ کو یکجا کرنا اس کا بنیادی مقصد ہوتا ہے، صحیفہ آسمانی (قرآن مجید) کے پیش کردی لازوال و ابدی حقائق اور فطرت اور عدل و انصاف پر مبنی تعلیمات، روشن و تابناک شاہراہ حیات کی طرف ہمیشہ رہنمائی کرتا ہے، اس کی بنیادی خصوصیت تعمیر ہے نہ کہ تخریب، معاشرہ کو برائیوں سے محفوظ رکھنا ہے نہ کہ اس کو بے یقینی و انتشار کی راہ پر ڈالنا، تقوی اور خیر کا وہ داعی ہو تا ہے، لوگوں کی عزت کے در پے ہونا، ان کی پردہ دری، ان کے حقوق کو غصب نہ کرنا، نہ معصوم و بے گناہ انساوں کی عزتوں سے کھیلنا اس کا شیوہ اور نہ پستیوں اور ذلتوں کے کیچڑ میں اترنا اور اپنے کو ان سے ملوث کرنا اس کا وطیرہ ہے، اس کے عقیدہ کی بنیادی قرآن مجید کی یہ آیتیں ہیں، ’’و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر و الفواد کل اولئک کان عنہ مسؤلا‘‘ اور ’’ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین آمنوا لھم عذاب الیم فی الدنیا و الآخرۃ، و اللہ یعلم و انتم لاتعلمون‘‘۔
اسلامی میڈیا ہر فضیحت و رسوائی کے پیچھے دورڑتا نہیں تا کہ سنسی خیز اور ہیجان انگیز شاہ سرخیوں کے ذریعہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے، اور نہ ہی بغیر کسی تحقیق کے صرف افواہوں کی بنیاد پر ہر فاسق و فاجر کی خبریں نشر کرتا ہے، وہ کسی خبر کی اشاعت سے پہلے ہر طرح چھان پھٹک کر یہ دیکھ لیتا ہے کہ فرد اور معاشرہ پر اس کے عواقب و نتائج کیا مرتب ہوں گے، جو لوگ اخلاقی قدروں سے کھلواڑ اور بیہودگیوں اور برائیوں کی سرپرستی کرتے اور نوجوانوں کے سامنے برائیوں کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں، ایسے لوگوں سے اس کو کوئی سر وکار نہیں ہوتا، تفریحی پروگراموں، بے مقصد خبروں، لاطائل بحثوں اور لیچر مقالات و مضامین کی اشاعت، مبالغہ آمیز خبروں، سنسی خیز کہانیوں، جنسی و سفلی جذبات کو بھڑکانے والی تصویروں اور مضامین وہ شائع نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی عوام و خواص، مرد و عورتوں کے جذبات اور عقلوں سے وہ کھیلنا پسند کرتا ہے، اسلامی میڈیا کا بنیادی مقصد افراد کی اصلاح اور اسلامی معاشرہ کی تعمیر و تشکیل ہے۔
(۳) اسلامی میڈیا کی ہمہ وقت بیداری و نگرانی:
اسلامی میڈیا کی تیسری بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معاشرہ میں موجود خرابیوں اور عیوب کو اپنی نگاہوں سے دیکھتا ہے، اور ان کی تفصیلات کو نوٹ کرتا ہے، اور ان کی تہ میں کار فرما اسباب و محرکات کا پتہ لگانا اور ان کا تجزیہ و تحلیل کرتا ہے، تاکہ حقائق تک رسائی ہوسکے اور ان سے سبق حاصل کیا جاسکے، میڈیا نام ہی ہے معاشرہ میں پائی جانے والی خرابیوں اور ان کی تہ میں کار فرما اسباب و محرکات تک رسائی اور معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں رہنمائی، اور کی جانے والی جد و جہد کی نگرانی و پیروی کا، وہ یہ نہیں کرتا کہ شترمرغ کی طرح حالات و واقعات سے آنکھیں بند کرلے، اور طفل تسلیوں، اور تفریحی پروگراموں اور کھیل کود کے ذریعہ عوام کو بہلانے کی کوشش کرے، جیسا کہ آج کل تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کو عموماً اور مسلم ممالک کا خصوصاً افسوسناک حال ہے کہ اصل مسائل سے چشم پوشی، خرابیوں کو مجرمانہ حد تک نظر انداز کرنے کے لئے سستے قسم کے تفریحی پروگراموں سے لوگوں کو بہلایا پھسلایا جاتا ہے، انھیں تھوڑے وقفہ سے نئے نئے، دلکش نعرے دئے جاتے ہیں، اس کے برعکس اسلامی معاشرہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معاشرے کے ہر چھوٹے بڑے واقعات اور خبروں کا نوٹس بر وقت لیا کرتے، جب بھی کوئی قضیہ پیش آتا، کوئی خبر یا افواہ ہوتی، آپ ان سے فوری طور پر حکمت عملی اور دانشمندی سے نمٹتے،آپ بڑی سرعت سے مسجد تشریف لاتے، الصلاۃ جامعۃ کا اعلان ہوتا، منبر پر تشریف لے جاتے، اور حمد و ثنا کے بعد اس قضیہ یا خبر یا واقعہ کے متعلق پوری وضاحت فرماتے کہ لوگوں کے سامنے حقائق آفتاب کی طرح روشن ہوجاتے، صحاح ستہ بکثرت ایسے واقعات سے بھرے ہوئے ہیں، اس کے برعکس جرمن لیڈر گوئیبلز کی اس روش کو دیکھیے جس میں اس نے خاموشی کی پالیسی کو ترجیح دی ہے، ایک امریکن اسکالر نے جرمن اخبارات کو گوئبلز کی طرف سے آئے، ان میں سے ایک چوتھائی بیانات میں اخبارات کو یہ ہدایت تھی کہ فلاں معاملہ میں خاموشی کی پالیسی اپنائی جائے، اس دور میں بھی تیسری دنیا کی میڈیا کا حل یہی ہے کہ وہ واقعات اور خبروں کو خوب پھیلنے دیتے ہیں، حالانکہ اس معمولی حقیقت سے انھیں واقف ہونا چاہئے کہ حقائق کی عدم موجودگی میں جھوٹ کی فرماں رائی ہوتی ہے۔
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام کتابوں میں یہ واقعہ درج ہے کہ ایک بار مدینہ طیبہ کے مسلمان ایک آواز سے خوفزدہ ہوگئے، لیکن انھیں یہ نہ معلوم ہو سکا کہ اس خوف و گھبراہٹ کو مرکز کدھر ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس اس کی طرف توجہ فرمائی، خود آپ ایک گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوکر تشریف لے گئے تا کہ حقائق سے واقف ہوسکیں، تھوڑی دیر کے بعد تشریف لاکر آپ نے لوگوں کو اطمینان دلایا کہ گھبرانے اور پریشان و خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، اطمینان رکھیں۔
اسلامی میڈیا جب کسی معاملہ یا قضیہ سے بحث کرتا ہے، تو وہ کسی ایک فریق کے خلاف یک طرفہ فیصلہ نہیں سناتا، بلکہ اس کی پالیسی افراط و تفریط سے الگ، اعتدال و توازن سے متصف اور امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں ہوتی ہے، نہ ہی عوام کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر ان کو گمرا کرتا ہے۔
اسلامی میڈیا مسائل و مشکلات سے آنکھیں چرانے کے بجائے ان کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتا ہے، اور ان کا متوازن حل پیش کرتا ہے، وہ ان مسائل و مشکلات کا ہر قدم پر جائزہ لیتا ہے، نئے پیش آنے والے مسائل کی پیشگی یاد دہانی کراتا ہے، امت میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے اور انتشار و اختلافات سے بچانے کی سعی کرتا ہے، اور اسلامی تعلیمات کے ذریعہ انتشار کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اسلامی میڈیا مسائل و مشکلات سے باخبر کرنے کا نام ہے، نہ کہ ان کو الجھا کر تجارت کرنا، یہ حقیقت ہے کہ جو شخص بھی پیغام حق پہنچانا چاہتا ہے، اس کا مقصد تجارت نہیں ہے، وہ ہمیشہ اپنے پیغام کی رسائی کے نتائج پر ہمیشہ نظر رکھتا ہے، وہ اپنی صدائے بازگشت سننے کا منتظر رہتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ اس پیغام کو کس حد تک رسائی ہوئی ہے، اس کے مطلوبہ نتائج کہاں تک حاصل ہوتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانے کرتے وقت جو ہدایات فرمائی تھیں ان میں ہر رہنمائی کے بعد اس کے نتائج اور ان کی نگرانی کا بھی حکم دیا تھا، پہلے ان یمنیوں سے یہ کہنا، جب وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر یہ کہنا، اور یہ بھی مان لیں تو ان کے ساتھ یہ معاملہ کرنا، اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ میڈیا کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مسائل و مشکلات سے تعرض کرنے کے بعد رد عمل دیکھے، اس کے بعد دوسرے مرحلہ کا آغاز کرے، پھر جب اس کی بھی تکمیل ہوجائے تو تیسری مرحلہ میں داخل ہو۔
اقتباس: مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، تالیف نَذرُالحَفیظ ندوی، ص: ۳۴۶۔۳۵۱