‘العربیہ’ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق فریقین میں صُلح کرانے کی تمام کوششیں بھی ناکام رہی ہیں جس کے باعث متحارب قبائل میں جھڑپیں مسلسل جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق جنگجوئوں میں جھڑپیں شمالی صنعاء سے تین کلومیٹر دور ارحب گورنری کے البکول علاقے میں ہوئیں۔ جہاں فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے ہیں۔ خونریز لڑائی میں دونوں فریقوں کا غیر معمولی جانی نقصان ہوا ہے۔
دونوں قبیلوں کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حوثی شدت پسندوں نے شمالی صنعاء میں قیداس کالونی میں ایک چیک پوسٹ قائم کر کے اطراف میں تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بیت دغیش کے مقام پر بھی حوثی باغیوں نے ایک چیک پوسٹ قائم کر رکھی ہے۔
حوثیوں کی چیک پوسٹوں کے قیام کو مخالف ارحب قبیلے نے اشتعال انگیز قرار دے کر انہیں فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم حوثیوں نے چوکیاں ختم کرنے کے بجائے لڑائی کا آغاز کیا جس کے بعد دونوں طرف سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔
ادھر دوسری جانب یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمرو نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل یمن میں تمام سیاسی جماعتوں کے مابین طے پائے امن وشراکت معاہدے کی حمایت کی ہے اور کہ مفاہمتی معاہدہ ہی ملک کو بحران سے نکال سکتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان