سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق آیت محمد آخوند جامعہ ربانیہ چنارلی کے استاذ اور ترکمن صحرا کی احناف مجلس فقہی کے سینئر رکن تھے۔ آپ کا شمار ممتاز ترکمن علمائے کرام، عبدالقادر داغستانی اور ان کے چھوٹے بھائی ابراہیم داغستانی، کے مایہ ناز تلامذہ میں ہوتاتھا۔
آخوند داوودی رحمہ اللہ فراغت کے بعد آخری دم تک جامعہ ربانیہ چنارلی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور چنارلی قریہ کے خطیب بھی رہے۔ مرحوم نے ستر برس عمر پانے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔
اطلاعات کے مطابق آیت محمد داوودی کی نماز جنازہ جامعہ ربانیہ چنارلی میں ادا کی گئی جہاں متعدد علمائے کرام اور مقامی افراد نے شرکت کی جن میں شیخ التفسیر مولانا محمدحسین گرگیج کا نام قابل ذکر ہے۔
سنی آن لائن ٹیم نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پس ماندگان اور تلامذہ و متعلقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان