سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق آیت محمد آخوند جامعہ ربانیہ چنارلی کے استاذ اور ترکمن صحرا کی احناف مجلس فقہی کے سینئر رکن تھے۔ آپ کا شمار ممتاز ترکمن علمائے کرام، عبدالقادر داغستانی اور ان کے چھوٹے بھائی ابراہیم داغستانی، کے مایہ ناز تلامذہ میں ہوتاتھا۔
آخوند داوودی رحمہ اللہ فراغت کے بعد آخری دم تک جامعہ ربانیہ چنارلی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور چنارلی قریہ کے خطیب بھی رہے۔ مرحوم نے ستر برس عمر پانے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔
اطلاعات کے مطابق آیت محمد داوودی کی نماز جنازہ جامعہ ربانیہ چنارلی میں ادا کی گئی جہاں متعدد علمائے کرام اور مقامی افراد نے شرکت کی جن میں شیخ التفسیر مولانا محمدحسین گرگیج کا نام قابل ذکر ہے۔
سنی آن لائن ٹیم نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پس ماندگان اور تلامذہ و متعلقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام