داعش کے جنگجوؤں نے پہلے ہی رمادی کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے اور ان کی جانب سے جمعے کو اس شہر پر مکمل کنٹرول کے لیے مساجد سے اپیلیں نشر کی گئی ہیں۔
الانبار کی صوبائی کونسل کے رکن حیثل الفہداوی نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے علی الصباح تین بجے کے قریب حملہ کیا تھا۔انھوں نے رمادی سے بیس کلومیٹر مشرق میں واقع ایک گاؤں الشجیریہ پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں ان کی عراقی فورسز کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔
ایک قبائلی رہ نما رفیع فہداوی نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شجیریہ کے نزدیک ایک مکان اور ایک مسجد پر دھاوا بولنے والے بارہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔علاقے میں داعش کے مقابلے کے لیے پولیس ،فوج اور قبائلی جنگجوؤں کو بھیجا جارہے ہیں۔
درایں اثناء داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے شمالی صوبہ کرکوک میں دو نوجوانوں کو سرعام گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔ان پر عراقی سکیورٹی فورسز سے تعاون کا الزام تھا۔
عراقی سکیورٹی حکام کے مطابق ان دونوں نوجوانوں کو کرکوک کے علاقے زاب میں ایک مرکزی بازار کے درمیان میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔
عراقی سکیورٹی فورسز اور حکومت نواز ملیشیائیں اس وقت مختلف محاذوں پر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی مدد بھی حاصل ہے ۔انھوں نے داعش سے بعض علاقے واپس لے لیے ہیں لیکن شمالی عراق میں تین بڑے شہروں پر بدستور داعش کا کنٹرول برقرار ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید