انھوں نے کل اسلام آباد میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے گفتگو کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اغیار کا وجود جائز نہیں ہے اور اس ملک سے ان غیر ملکیوں کو نکال باہر کرنے کیلئے، کوششیں کئے جانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان کے سیاسی و مذہبی حکام کی نظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے اور وہ پاکستان و افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے عمل میں لائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم محمد نواز شریف اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے۔
ایران اردو ریڈیو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار