انہوں نے سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے اہل سنت والجماعت کے عقائد کی تحریف کی مذمت کی ہے۔
’سنی آن لائن‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، آزادشہر کے خطیب اور جامعہ فاروقیہ گالیکش کے مہتمم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ایام کی مناسبت سے بعض نام نہاد سنی علما کی عزاداری اور سرکاری ٹی وی میں ماتم وعزاداری کو اہل سنت کے عقائد کا حصہ ظاہر کرنے پر سخت برہمی اور افسوس کا اظہار کیاہے۔
انہوں نے سرکاری ٹی وی چینلوں کو متنبہ کیاہے اہل سنت والجماعت صحابہ واہل بیت سے محبت کرتے ہیں مگر سالگرہ نہیں مناتے اور کسی بھی شخص کے لیے ماتم نہیں کرتے ہیں۔ شیخ التفسیر مولانا گرگیج نے سوال اٹھایا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ انبیا یا اپنے عزیزوں کے لیے ماتم کیا جو شہادت سے ہمکنار ہوئے تھے؟ کیا خلفائے راشدین اور شیعہ کے ائمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ماتم و عزاداری کیا کرتے تھے؟ ظاہر ہے ان عظیم ہستیوںنے ہرگز ایسا نہیںکیا اور ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
مہتمم جامعہ فاروقیہ گالیکش، صوبہ گلستان، نے نام نہاد سنی علما پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: جو لوگ سرعام ماتم کرکے اپنے سینوں پر ہاتھ مارتے ہیں، یا اہل سنت کے عقائد سے واقف نہیں ہیں اور نادانی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں یا ان کا مقصد چاپلوسی و خوش آمدگوئی ہے تاکہ مستقبل میں انہیںکوئی عہدہ مل جائے۔ اہل سنت والجماعت ایسے لوگوں سے بری ہے جو کسی بھی مذہب ومسلک کے پابند نہیں ہیں۔
یاد رہے مولانا کے اس واضح بیان کے بعد جاری ہفتہ میں سرکاری ٹی وی، قم میں قائم ایک نجی مذہبی سیٹلائٹ ٹی وی چینل اور متعدد انتہاپسند شیعہ ذرائع ابلاغ نے مولانا محمدحسین گرگیج پر وار کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ مذکورہ ذرائع ابلاغ ماتم وعزاداری کو اہل سنت کے مذہبی رسومات کا حصہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جبکہ اہل سنت ایران کے رہ نما مولانا عبدالحمید نے اس سے قبل واضح کیاہے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ کسی بھی میت کے لیے تین دن کا عزا ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام