ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس علاقے کے مالک فلسطینی شہری فوجی اپیل کمیٹی کے سامنے اس فیصلے کے خلاف 45 روز میں اپیل کر سکتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق بیت لحم کے قریب یہ علاقہ ایک ایسے وقت میں اسرائیل میں شامل کیا جا رہا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں تقریباً 2 ماہ تک جنگ کے بعد فائربندی معاہدہ طے پایا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان اس لیے کیا کہ جون میں فلسطینی مجاہدین نے تین اسرائیلی لڑکوں کواسی علاقے سے اغوا کرکے قتل کردیا تھا۔ 400 ہیکٹر علاقے کواسرائیل میں شامل کرنے کے بعد نیا صیہونی شہر ’’گیوٹ‘‘ بننے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی بستیوں کی کونسل ایتزیون نے صیہونی حکومت کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسرائیلی اعلان کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین کے مذاکرات کار صائب ارکات نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف سفارتی ایکشن ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کے خلاف جرائم کررہی ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو ظلم کا ذمے دار ٹھہرائے۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید