حکام کے مطابق حملے کے دوران ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اْڑایا جبکہ مسلح افراد نے بھاگتے ہوئے نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
صوبہ دیالہ حالیہ ہفتوں میں دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں اور عراقی فوج کے درمیان میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ شیعہ ملیشیا عراقی فوج کی حمایت کر رہی ہے۔
اس حملے کو حکومت کی طرف سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے سنی گروپوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو ایک بڑا دھچکہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ حملہ ملک کے دارالحکومت بغداد سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر بقوبہ شہر کے جنوب میں ایک گاؤں کے مسجد پر ہوا۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ حکومت کی حامی شیعہ ملیشیا نے اپنے جنگجوؤں پر ہونے والے ایک بم حملے کا بدلہ لینے کے لیے کیا۔
عراق کے سبکدوش ہونے والے وزیرِ اعظم نوری المالکی پر جنھیں ملک میں تقسیم پیدا کرنے والے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے، بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کے بعد معتدل خیالات رکھنے والے نامزد شعیہ وزیرِ اعظم حیدر العبادی سب گروپوں کو ملا کر حکومت بنانے کی تگ و دو میں ہیں۔ نوری المالکی کو ملک میں
لیکن دو بااثر سنی سیاستدانوں، پارلیمان کے سپیکر سلیم الجابوری اور نائب وزیرِ اعظم صالح المطلق نے جمعے کو ہونی والی خونریزی کے بعد نئی کابینہ کے لیے ہونے الی بات چیت کو معطل کر دیا ہے۔
بی بی سی اردو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار