داعش کے قبضے میں جانے والی کیمیاوی مواد کے یہ ذخیرے ماضی میں مہلک اعصاب شکن گیس سے بھرے راکٹ سمیت دوسرا کیمیائی وار فیئر مواد سٹور کرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔
العربیہ نیوز چینل کے مطابق اس امر کا انکشاف اقوام متحدہ میں عراقی سفیر محمد الحکیم نے یو این جنرل سیکرٹری بین کی مون کے نام اپنے ایک خط میں کیا ہے۔
محمد الحکیم نے اپنے خط میں بتایا کہ “شمالی بغداد میں المثنی فیکٹری ہمارے کنڑول سے نکل چکی ہے۔” عراقی سفیر کے بقول متروکہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام میں استعمال ہونے والا مواد اسی فیکٹری کے زمین دوز خفیہ خانوں میں موجود ہے، جس پر مسلح جنگجو قبضہ کر سکتے ہیں۔
امریکی وزارت دفاع کے ترجمان ایڈمیرل جون کیربی نے گذشتہ دنوں اس معاملے کو زیادہ اہمیت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان سٹورز میں جو بھی مواد ہے، وہ انتہائی پرانا ہو چکا ہے، اس لئے اگر جنگجو اس مواد تک رسائی حاصل کر بھی لیتے ہیں تو یہ ایک انتباہ سے زیادہ عملی حیثیت نہیں رکھتا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…