قاہرہ کی عدالت میں پیٹر گریسٹے ،محمد فہیمی اور باہر محمد پربے بنیاد خبریں نشر کرنے اور محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی حمایت کرنے کے الزام کے حوالے سے مقدمے کی سماعت ہوئی تاہم تینوں افراد نے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ،عدالت نے الجزیرہ کے صحافیوں سمیت دیگر 10 صحافیوں کو بھی ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی۔
آسٹریلیا کے وزیر خارجہ نے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عدالت کے فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی ہے،عدالت کے فیصلے سے قبل آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے مصر کے صدر سے درخواست کی تھی کہ آسٹریلوی شہری پیٹر گریسٹے کو رہا کیا جائے، ادھر برطانوی وزیراعظم نے نہ صرف فیصلے کو مایوس کن قرار دیا بلکہ برطانوی وزارت خارجہ نے مصری سفیر کو طلب کر کے سزا کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ جن دیگر 10 صحافیوں کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی ان میں سے2 کا تعلق برطانیہ سے ہے۔
واضح رہے کہ قطر میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک پر مصر میں کام کرنے پر پابندی ہے، مصری حکام کا دعویٰ ہے کہ الجزیرہ پر محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے حق میں خبریں نشر کی جاتی ہیں جس کی الجزیرہ مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید