فلسطین میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چھ فلسطینی بچوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق پندرہ سالہ محمد دودین اس سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ دودین کو تین روز قبل الخلیل میں دورا کے مقام پر گولیاں مار کر شہید کردیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم “دفاع برائے اطفال فلسطین” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے مقبوضہ الخلیل شہر کے نواحی علاقے “دورا” میں 20 مکانوں پر چھاپے مارے اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو زدو کوب کیا۔
اسرائیلی فوج کے مظالم کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اسرائیلی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ تین یہودی آباد کاروں کی گم شدگی سے خار کھائے صہیونی فوج نے آؤ دیکھا نہ تاؤ نہتے اور معصوم شہریوں پر آنسو گیس کے شیلوں اور فائرنگ کی بارش کردی جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔ اس دوران گولی لگنے سے محمد دودین بھی شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کی کارروائیوں میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں اب تک چھ فلسطینی بچے شہید کیے جا چکے ہیں۔ شہید ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے پندرہ سال کے درمیان ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین