سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق جیش العدل نامی تنظیم کے ہاتھوں اغوا ہونے والے سرحدی محافظین کی رہائی ایران کے علمائے اہل سنت اور بلوچ عمائدین کی اپیل پر جذبہ خیرسگالی کے تحت عمل میں لایا گیا۔ کالعدم مسلح تنظیم نے چھ فروری دوہزار چودہ کو پانچ ایرانی سرحدی محافظین کو اغوا کیا تھا جن میں سے ایک کو کچھ عرصہ قبل قتل کیا گیا۔
جمعہ چاراپریل کو اغواکاروں سمیت مختلف سیاسی وسماجی حلقوں نے مغوی اہلکاروں کی رہائی کی تصدیق کی۔ تاہم ان کے وطن واپس پہنچنے میں دو دن لگ گیا۔ مشترکہ بارڈر پر انہیں لینے کے لیے سیستان وبلوچستان کی بعض سرکردہ دینی وقبائلی شخصیات سمیت پولیس حکام پہنچ گئے تھے۔
مغوی سرحدی محافظوں کی رہائی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے ’سنی آن لائن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: مغوی اہلکاروں کی رہائی صرف قرآن مجید اور قوم کے احترام میں ممکن ہوئی۔
مغوی اہلکاروں کی رہائی کی تفصیلات کے حوالے سے سنی آن لائن کی مولانا عبدالحمید سے مکمل گفتگو جلد شائع ہوگی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…