سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق جیش العدل نامی تنظیم کے ہاتھوں اغوا ہونے والے سرحدی محافظین کی رہائی ایران کے علمائے اہل سنت اور بلوچ عمائدین کی اپیل پر جذبہ خیرسگالی کے تحت عمل میں لایا گیا۔ کالعدم مسلح تنظیم نے چھ فروری دوہزار چودہ کو پانچ ایرانی سرحدی محافظین کو اغوا کیا تھا جن میں سے ایک کو کچھ عرصہ قبل قتل کیا گیا۔
جمعہ چاراپریل کو اغواکاروں سمیت مختلف سیاسی وسماجی حلقوں نے مغوی اہلکاروں کی رہائی کی تصدیق کی۔ تاہم ان کے وطن واپس پہنچنے میں دو دن لگ گیا۔ مشترکہ بارڈر پر انہیں لینے کے لیے سیستان وبلوچستان کی بعض سرکردہ دینی وقبائلی شخصیات سمیت پولیس حکام پہنچ گئے تھے۔
مغوی سرحدی محافظوں کی رہائی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے ’سنی آن لائن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: مغوی اہلکاروں کی رہائی صرف قرآن مجید اور قوم کے احترام میں ممکن ہوئی۔
مغوی اہلکاروں کی رہائی کی تفصیلات کے حوالے سے سنی آن لائن کی مولانا عبدالحمید سے مکمل گفتگو جلد شائع ہوگی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان