جمعہ کے روز بھی سیکڑوں یہودیوں نے حضرت یوسف کے مزارمیں داخل ہو کر تلمودی تعلیمات کےمطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر مزار کے آس پاس کی کالونیوں میں صہیونی فوج اور پولیس نے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے تھے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ جمعہ کو علی الصباح سیکڑوں یہودی شرپسند بسوں کے ذریعے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر پہنچے جہاں ان کے ساتھ صہیونی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔
صہیونی فوجیوں نے مزار شریف کی طرف آنے والے تمام راستوں کی مکمل ناکہ بندی کر کے فلسطینیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی تھی۔ کئی گھنٹے کی طویل ناکہ بندی کے بعد یہودی آبادکاروں کی واپسی شروع ہوئی۔ مقامی فلسطینی نوجوانوں نے یہودی آباد کاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان