جمعہ کے روز بھی سیکڑوں یہودیوں نے حضرت یوسف کے مزارمیں داخل ہو کر تلمودی تعلیمات کےمطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر مزار کے آس پاس کی کالونیوں میں صہیونی فوج اور پولیس نے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے تھے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ جمعہ کو علی الصباح سیکڑوں یہودی شرپسند بسوں کے ذریعے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر پہنچے جہاں ان کے ساتھ صہیونی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔
صہیونی فوجیوں نے مزار شریف کی طرف آنے والے تمام راستوں کی مکمل ناکہ بندی کر کے فلسطینیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی تھی۔ کئی گھنٹے کی طویل ناکہ بندی کے بعد یہودی آبادکاروں کی واپسی شروع ہوئی۔ مقامی فلسطینی نوجوانوں نے یہودی آباد کاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید