العربیہ ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو جاری کردہ ایک سعودی شاہی فرمان میں اخوان المسلمون کے علاوہ سعودی مملکت میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی شاخ اور شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف بر سر پیکار دو گروپوں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور النصرۃ محاذ کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت سیکڑوں سعودی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ داعش اور النصرۃ محاذ کی صفوں میں شامل ہو کر شام میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ سعودی حکام نے ان کی وطن واپسی کے لیے ڈیڈلائن میں توسیع کردی ہے۔
شاہی فرمان کے مطابق ان مذکورہ چاروں گروپوں کی رکنیت اختیار کرنے، ان کی مالی معاونت اور ان کی حمایت کرنے والوں کو فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ غیر مجاز فتوے جاری کرنے پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔
سعودی شوریٰ کونسل کے رکن محمد زلفیٰ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو طویل عرصہ قبل نافذ العمل ہو جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ”سعودی مملکت نے مسلمان ہونے کا دعوے کرنے والے ہر کسی کے لیے اپنی سرحدیں اور جامعات کے دروازے کھول دیے تھے لیکن ہمیں دھوکا دیا گیا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ ”یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا جاتا تو ہم ان دہشت گرد گروپوں کی بڑھوتری تو نہ دیکھتے”
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار