قندھار کے سکیورٹی کے سربراہ رحمت اللہ اشرفی کا کہنا ہے کہ جیل حکام کو ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ اٹھائیس قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ 28 میں سولہ قیدیوں کو رہا کرنا ہی تھا لیکن ان کے ساتھ ان بارہ کو بھی رہا کر دیا گیا جن کو رہا نہیں کرنا تھا۔ رحمت اللہ کے بقول ان قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ خط جعلی تھا۔ رہا کیے گئے بارہ میں سے دو قیدیوں کو حکام نے دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔ ابھی تک اس جعلی خط کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ رحمت اللہ نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ‘اس خط میں بارہ مزید قیدیوں کے ناموں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں جیل حکام، استغاثہ اور سکیورٹی حکام شامل ہیں-
اردو ٹائمز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان