بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت جسے عام طور پر ’’موّلِد‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے مسجد الحرام کے ساتھ واقع ہے اور اس وقت بھی اس کے آثار پر ایک لائبریری قائم ہے تاہم یہ لائبریری گزشتہ دو برس سے بند ہے۔ سعودی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عرفان العلاوی نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں تعمیر نو کے نئے منصوبوں کے تحت ممکن ہے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت پر نئی عمارتیں بنادی جائیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ نے بھی حال ہی میں اس بارے میں اپنی خبر میں کہا ہے کہ اس تعمیراتی منصوبے کی انچارج کمپنی نے تجویز دی ہے کہ لائبریری اور اس کے نیچے واقع عمارت کو مسمار کرکے امام کعبہ کی رہائش گاہ اور ساتھ واقع شاہی محل کے لئے راستہ نکالا جائے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت ہے تاہم ڈاکٹر عرفان علاوی کا کہنا ہے کہ صدیوں پرانے نقشے اور دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا مقام ہے۔
واضح رہے کہ عازمین حج ، معتمرین اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سعودی حکومت نے مکہ مکرمہ میں پرانی عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ ہوٹلوں اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور اس عمل کے دوران بہت سے ایسے تاریخی مقامات بھی منہدم کئے گئے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے تھے لیکن سعودی حکام کا موقف ہے کہ حاجیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید