Categories: مشرق وسطی

جینیوا: حمص سے خواتین اور بچوں کے محفوظ انخلا پر اتفاق

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی نے کہا ہے کہ حمص شہر میں پھنسے خواتین اور بچوں کو وہاں سے محفوظ نکلنے کی اجازت دینے کے لیے شامی حکومت رضامند ہو گئی ہے۔

فریقین میں یہ معاملہ جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے دوسرے دن طے پایا ہے۔
شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل میكداد نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افراد خواتین اور بچوں کو حمص شہر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے وہ لوگ جانے کے لیے آزاد ہیں۔
اخضر براہیمی نے کہا کہ اپوزیشن گروپ حکومت کو ان لوگوں کی تعداد بتا دیں جو مسلح افراد کے قبضے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فریقین میں کسی معاہدے کے امکان کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بات چیت کی رفتار سست ہے لیکن انہیں امید ہے کہ پیر کو فریقین آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی بیان جاری کریں گے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ پیر کو اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کا ایک انسانی وفد حمص جا سکے گا۔
خبروں کے مطابق سینکڑوں لوگ حمص شہر میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں کئی شدید زخمی ہیں۔
جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا کہ اگر معاملات ٹھیک رہے تو حمص پر سمجھوتہ امن مذاکرات کا پہلا ٹھوس نتیجہ ہوگا۔
شام کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ مقامی حکام کی مدد سے حمص شہر تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے کہ امداد کا سامان شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگے۔
شامی حکومت مسلح افراد کو شدت پسند قرار دیتی ہے۔
اخضر براہیمی نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو تو حکومت فوری طور پر شہر چھوڑنے کی اجازت دے دے گی لیکن حکومت نے بالغ مردوں کی فہرست طلب کی ہے جو حمص شہر چھوڑنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ حکومت مخالف جنگجو نہیں ہیں.
اخضر براہیمی کا کہنا تھا، ’آپ جانتے ہیں کہ حمص شہر کے مرکزی حصے ایک طویل عرصے سے محاصرے میں ہیں۔ اب مجھے امید ہے کہ ہم لوگ کم سے کم عام شہریوں کے لیے کسی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
قیدیوں کی رہائی؟
باغی سرکاری جیلوں میں بند ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اخضر براہیمی نے کہا کہ اتوار کو بات چیت کے ماحول سے انہیں کافی ہمت ملی ہے کیونکہ اس دوران دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کے لیے احترام دکھایا اور ایک دوسرے کی بات سنی۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین اب بھی ایک دوسرے سے براہ راست بات نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کے ذریعے ہی بات کی جارہی ہے۔
سال 2011 میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریبا ایک کروڑ لوگوں کو اپنا گھر چھوڑ نا پڑا جس کی وجہ سے شام کے اندر اور اس کے پڑوسی ممالک کے لیے ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago