Categories: مشرق وسطی

مصر: ’98.1 فیصد‘ نئے آئین کے حق میں

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ نئے آئین متعارف کروانے کے لیے کرائے گئے ریفرنڈم میں عوام کے 98.1 فیصد شرکا نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔

منتظمین نے بتایا کہ پانچ کروڑ 30 لاکھ اندراج شدہ ووٹرز میں سے 38.6 فیصد افراد نے ووٹ ڈالا ہے۔
مجوزہ آئین مصر میں معزول صدر محمد مرسی کی حکومت کے بنائے ہوئے آئین کی جگہ لے گا۔
اس ریفرنڈم کو بطور صدر مرسی کی معزولی کا جواز دیکھا جا رہا ہے۔ ۔دشتہ سال جولائی میں فوج نے ایک بغاوت کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
منگل اور بدھ کے دن ہونے والے اس ریفرنڈم کا اخوان المسلمین کے اراکین نے بائیکاٹ کیا تھا۔ اخوان المسلمین صدر مرسی کی جماعت ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ مرسی کو صدر کے عہدے پر بحال کیا جائے۔
ووٹنگ کے پہلے دن معزول صدر مرسی کے حامیوں کے ساتھ چھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز بھی ایسے ہی پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ نبیل سالب نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے اس ریفرنڈم کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے۔
سنیچر کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے مصری حکام سے کہا کہ وہ نئے آئین میں دیے گئے حقوق اور آزادی کو مکمل طور پر یقینی بنائیں۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’مصر میں گذشتہ تین سال کے واقعات نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا کام نہیں بلکہ اس کے بعد تمام تر مراحل پر عملدرآمد کا نام ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت نے کئی بار تبدیلی کے عمل کا وعدہ کیا ہے جس کے بعد حمہوری حقوق میں اضافہ اور سویلین قیادت میں حکومت کی شفاف انتخابات کے ذریعے تشکیل شامل ہے، اب اس وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
معزول صدر مرسی کے دورِ حکومت 2012 میں بھی اس حکومت کے مجوزہ آئین پر ریفرنڈم کروایا گیا تھا جس میں سیکیولر جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ اس ریفرنڈم میں 33 فیصد ووٹر نے اپنے حق کا استعمال تھا جس میں سے 64 فیصد نئے آئین کے حامی تھے۔
موجودہ حکومت کے مجوزہ آئین کو 50 اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی نے بنایا ہے جس میں مذہبی جماعتوں کے صرف دو اراکین شامل تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نئے آئین فوج کی حمایت کرتا ہے اور 2011 میں صدر حسنی مبارک کو برطرف کرنے والی تحریک کے اہداف کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ ووٹنگ کے دو دنوں کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور حکومت کے مطابق 160000 فوجی اور 200000 پولیس اہلکار ملک کے مختلف حصوں میں پولنگ سٹیشنوں پر تعینات کیے گیے تھے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago