عیاش جب تک زندہ رہے انہوں نے صہیونی فوجیوں کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا، یہی وجہ ہے کہ صہیونی فوج اور قابض ریاست نے عیاش کو بھی فلسطین کےہرشہر سے بے دخل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج نے یحیٰی عیاش کو قاتلانہ حملے میں شہید کرنے کی ان گنت ناکام کارروائیاں کی لیکن پانچ جنوری 1996ء کو ایک ٹارگٹ کلنگ حملے میں شہید کرنے میں کامیاب رہی۔ یوں آج پانچ جنوری کو یحیٰ کی شہادت کی اٹھارہویں سالگرہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمانڈر یحییٰ عیاش المعروف “ابوالبرا” کی پچھلی سترہ سال تک آنے والی سالگرہ کے موقع پران کے آبائی شہرسلفیت ان کے گھر میں جشن کا سماں رہتا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کی ٹیم نے شہید کمانڈر کے آبائی شہر میں ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ یحیٰی کو ہم سے بچھڑے اب کئی سال ہوچکے ہیں لیکن وہ نہ صرف اپنے قریبی عزیزوں کے دلوں میں زندہ ہیں بلکہ پورے فلسطین میں ان کی شہادت کے دن پر یاد کیا جاتا ہے۔
شہید کمانڈر کےبوڑھے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں بیٹے کی زندگی اور موت دونوں پر فخر ہے، وہ جب تک زندہ رہا دشمن کی فوج کو ناکوں چنے چبوائے، قابض دشمن کو بے پناہ جانی اور مالی نقصان پہنچایا اور بالآخر شہادت کی آرزو پوری کرتے ہوئے ابدی جنتوں کا مالک بنے کا سزا وار ٹھہرا ہے۔ ہمیں فخر ہے اور ہم سر اٹھا کر چلنے لگے ہیں۔
شہادت کی اٹھارہویں سالگرہ پر شہید یحییٰ کے عزیزواقارب سمیت مجاہدین کی بڑی تعداد بھی جمع تھی۔ یحیٰ عیاش سے محبت اور عقیدت رکھنے والے اس کی چھوٹی بڑی تصویریں اٹھائے یہ پیغام دے رہے تھے کہ شہید کبھی مرا نہیں کرتے۔ گھر میں اس کی بچپن سے لے کر شہادت تک مختلف مراحل کی تصاویر سے ایک الگ ہی سماں نظر آتا ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ شہید کی روح اب بھی اس گھر میں اپنی آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔ یہ وہ روح پاک ہے جس سے فلسطینی تحریک مزاحمت کے سرخیل صبر و اسقامت کا سبق سیکھتے اور شہید کی قربانیوں کو اپنے لیے مشعل راہ سجھتے ہوئے اس کے راستے پر چلنے کا عزم صمیم کرتے ہیں۔
شہید کی والدہ نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کی شہادت کی دعا کرتی رہی ہے۔ جب بیٹے یحییٰ کو شہادت کا عظیم مرتبہ ملا تو اسے بہت خوشی ہوئی اوراس کی اور اس کے بیٹے کی دلی مراد پوری ہوئی۔ مجھے معلوم ہے کہ اب بیٹا میرے سامنے نہیں ہے لیکن میں اپنے بیٹے کی شہادت کو فلسطینی تحریک آزادی کی فتح و نصرت کی علامت پریقین رکھتی ہوں۔ میں شہید کی سالگرہ کے موقع پر دعا گو ہوں کہ اللہ مجاہدین کی فتح و نصرت کے ساتھ ساتھ صہیونی دشمن کی جیلوں میں پابند سلاسل نہتے فلسطینیوں کو آزادی کی نعمت سے بہرہ مند کرے۔
کمانڈر یحیٰی عیاش کے ایک ساتھی مازن حسین نے بتایا کہ شہید کمانڈر ہمارے لیے بہت سے زندگی کے پہلوؤں میں نمونے کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی سب سے اہم بات یہ تھی وہ صہیونی دشمن کی آنکھوں میں تنکا اور حلق کا کانٹا بنے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قابض فوج کبھی انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کرتی، کبھی قاتلانہ حملے میں شہید کرنے اور کبھی فلسطینی شہروں سے بے دخل کرنے کی منصوبے بناتی۔
مرکزاطلاعات فلسطین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار