جنوب مغربی ریلوے کے ترجمان سي ایس گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے میں 23 افراد ہلاک ہوئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
حادثے میں زخمی ہونے والے لوگوں کو قریبی پٹّاپرتھي ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
ریلوے ترجمان سي ایس گپتا نے بی بی سی کے دلنواز پاشا کو بتایا کہ حادثہ سنیچر کی صبح ساڑھے تین بجے ہوا۔
ریلوے ترجمان کے مطابق حکام کو آگ کے متعلق پہلی اطلاع صبح تین بج کر 45 منٹ پر ملی۔
حکام کے مطابق آگ انجن سے چار بوگی پیچھے موجود ایئركنڈيشڈ بی -1 کوچ میں لگی اور بہت تیزی سے پھیل گئي۔ اس ڈبے کے کوچ اٹنڈينٹ نے آگ بجھانے والے آلے سے آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔
جغرافیائی اعتبار سے یہ حادثہ ریاست آندھرا پردیش میں ہوا لیکن ریلوے ڈویژن کے مطابق یہ علاقہ ریاست کرناٹک کے بنگلور ڈویژن میں آتا ہے۔
آتشزدگی کی معلومات ملتے ہی ٹرین کو فوری طور پر روک دیا گيا۔
ریلوے ترجمان نے بتایا کہ لاشوں کو بری طرح جلی ہوئی حالت میں نکالا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افسران موقع پر پہنچ گئے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی تک پتہ نہیں چلا تاہم حکام کے مطابق حادثے کی وجہ سے ریلوے ٹریفک پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان