اخوان المسلمون نے مصر میں آنے والی سیاسی تبدیلی کے بعد ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے امیدوار محمد مرسی نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا۔
مصری فوج نےصرف ایک سال بعد اخوان المسلمون کی حکومت ہٹا کر ایک عبوری حکومت قائم کر دی۔
اقتدار سے علیحدگی کے بعد حکومتی کریک ڈاؤن میں اخوان المسلمون کے سینکڑوں کارکنوں کو ہلاک اور سینکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مصری حکام کو اخوان المسلمون کو دہشتگرد قرار دینے کے بعد اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔
مصر کے نائب وزیر اعظم حسام محمد عیسی نے بدھ کے روز کابینہ کی طرف سے اخوان المسلمون کے بارے میں فیصلے کا اعلان کیا۔
حسام محمد عیسی نے بتایا کہ اخوان المسلمون کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیاگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کو دہشتگرد قرار دیے جانے کے بعد اس گروپ سے تعلق رکھنے اور اس کی مالی معاونت کرنے والوں کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مصری حکام ملک میں حالیہ ایام میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا ذمہ دار اخوان المسلمون کو قرار دیتے ہیں۔
اخوان المسلمون ان حکومتی الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔
پچاسی سال پہلے وجود میں آنے والی اخوان المسلمون کو 1954 میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ البتہ اخوان المسلمون نے رواں سال مارچ میں اپنے آپ ایک این جی او کےطور پر رجسٹر کروایا تھا۔
مصر کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (ایف جے پی) اخوان المسلمون کا سیاسی ونگ ہے جسے 2011 میں قائم کیا گیا تھا۔
اخوان االمسلمون سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد قاہرہ کی انتظامی عدالت اور سوشل سولیڈیرٹی منسٹری کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اخوان المسلمون کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیں۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام