ایرانی اہل سنت کی خبررساں ویب سائٹ، سنی آن لائن، کی رپورٹ کے مطابق ”بلوچ کارکنان کی مہم“ نے خبردی ہے مولانا فتحی محمدنقشبندی اور ان کے بیٹے سمیت بعض رشتے داروں کو جیل میں ان کی سزاووں کی اطلاع پہنچائی گئی ہے۔ عدالت نے انہیں حکومت نواز عالم دین ’مصطفی جنگی زہی‘ کے قتل کے الزام میں سزا سنائی ہے۔
’کمپین فعالین بلوچ‘ نامی ویب سائٹ کے مطابق زاہدان کی مقامی عدالت نے مولانا فتحی محمدنقشبندی کو پندرہ برس قید اور زاہدان سے 2,200کلومیٹر دور ’خلخال‘ شہر کی جیل میں جلاوطنی کی سزا سنائی ہے جبکہ ان کے بیٹے مولوی عبدالغفار نقشبندی کو تیرہ برس قید اور نامعلوم مقام پر جلاوطنی کی سزا سنائی گئی ہے۔ مذکورہ عدالت نے مولانا کے قریبی رشتے دار حاجی ملک محمدآبادیان، ان کے بیٹے جابر آبادیان، جواد اور نظام الدین ملازادہ کو موت کی سزا سنائی ہے جو پھانسی کی صورت میں عملدرآمد ہوگی۔
سزایافتہ کارکنوں کے دو ساتھی، فقیرمحمدرئیسی اور گل محمد بلیدہ ای، کی سزاووں کے بارے میں کوئی رپورٹ شائع نہیں ہوئی ہے۔
مولانا فتحی محمدنقشبندی نے عدالت کے احکامات کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے ’جنگی زہی‘ کے قتل کے الزام کو سختی سے مسترد کیاہے۔
یادرہے بیس مہینے قبل ایران کے بعض سکیورٹی اداروں نے مولانا نقشبندی اور ان کے ساتھیوں کو ’مصطفی جنگی زہی‘ کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ۔
اس سے قبل مولوی جنگی زہی کے اہل خانہ نے تحریری طور پر مولانا نقشبندی کو اس الزام سے بری قرار دیاہے، اس کے باوجود انہیں سخت سزائیں سنائی گئیں جس سے مختلف حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام