Categories: پاکستان

وزیرستان میں کارروائی: عوام اور فوج کے ہلاکتوں کے متضاد دعوے

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم تیئس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ مرنے والے تمام افراد عسکریت پسند ہیں تاہم مقامی لوگوں سے متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقے کجوری میں حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا قافلہ واپس آ رہا تھا کہ ان پر عسکریت پسندوں کی طرف سے حملے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا قافلہ کجوری چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو واپس لا رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی بھر پور جوابی کارروائی کی گئی جس میں تیئس عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ عسکری ذرائع کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں تین سکیورٹی اہلکار بھی زحمی ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ آج صبح سے علاقے میں تلاشی کا کام جاری ہے۔ تاہم دوسری طرف عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی گولہ بھاری میں مارے جانے والے بیشتر افراد عام شہری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جمعرات کی صبح میرعلی فوجی کیمپ سے شمالی وزیرستان کے علاقوں موسکی اور ای پی پر بھاری توپ خانے سے شدید گولہ بھاری کی گئی جس سے بازار اور مکانات نشانہ بنے ہیں۔ موسکی گاؤں کے ایک عینی شاہد یوسف خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ میرعلی بازار میں ایک ہوٹل پر گولہ گرا ہے جہاں موجود پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسی علاقے میں ایک اور گولہ ایک مکان پر لگا ہے جس سے خاتون اور ان کے تین بچے مارے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید گولہ بھاری کی وجہ سے کل سے لوگ مکانات کے اندر محصور ہیں جس کی وجہ سے لاشیں راستوں اور سڑکوں پر پڑی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گولہ بھاری کے خوف کے باعث لوگ لاشیں نہیں اٹھا سکتے۔ دریں اثناء خود کو شمالی وزیرستان کے مجاہدین کا ایک ترجمان ظاہر کرنے والے ایک شخص خلیل منصور نے دعوی کیا کہ سکیورٹی فورسز کی کاروائیی میں بڑے پمیانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کاروائی بند نہیں کی گئی تو پھر وہ بھی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے۔ خیال رہے کہ بدھ کی شام شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کھجوری پر عسکریت پسندوں کی جانب سے مبینہ خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت ہوا تھا کہ جب اسی روز صبح سے لے کر شام تک علاقے میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

اردو ٹائمز

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago