یہ خبر ایک سرکاری نیوز پورٹل نے شائع کی ہے۔ یہ واقعہ اتوار کی شام سنکیانگ صوبے میں کاشغر شہر کے قریب ایک گاؤں میں پیش آیا۔ ایک علاقائی سرکاری نیوز پورٹل نے کہا ہے کہ پولیس جب بعض لوگوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی تو ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ یہ لوگ دھماکہ خیز مواد اور چھری چاقو سے لیس تھے۔ پولیس نے جوابی کارروائی میں 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ سنکیانگ میں مسلم ایغور اقلیتی برادری کی اکثریت ہے اور یہاں عام طور پر ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ حکومت تشدد کے الزامات روایتاً انتہا پسندوں پر عائد کرتی رہتی ہے جبکہ ایغور نسلی تنازعات اور زبردست چینی کنٹرول کو تشدد کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ اس علاقے سے آنے والی اطلاعات کی آزادانہ تصدیق بہت مشکل ہے کیونکہ چینی کنٹرول اور پابندیوں کے سبب اس علاقے سے اطلاعات مشکل سے ہی باہر آ پاتی ہیں۔ سرکاری ٹیانشیان پورٹل پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار بھی کیا گيا ہے۔ گذشتہ ماہ سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ کاشغر کے نواح میں ایک پولیس سٹیشن پر حملے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار کے علاوہ نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اکتوبر کے اواخر میں پانچ افراد اس وقت مارے گئے تھے جب ایک کار چین کے دارالحکومت بیجنگ کے معروف ٹیانامن سکوائر پر بھیڑ میں گھس کر دھماکے سے پھٹ گئی تھی۔ بیجنگ نے اس واقعے کو ’دہشت گردانہ‘ حملہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے پس پشت سنکیانگ کے انتہا پسند ہیں۔ اس حملے میں جو تین افراد کار کے اندر سوار تھے اور ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے کہا تھا کہ ان کا تعلق سنکیانگ کی ایغور اقلیتی برادری سے سے ہے۔
اردو ٹائمز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار