اہل سنت و الجماعت پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمن معاویہ کو بتی چوک کے قریب رنگ روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
اُن کے گن مین اور ایک راہ گیر شدید زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق 47 سالہ مولانا شمس الرحمن کریم پارک کی محمدیہ مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کے بعد گھر واپس جا رہے تھے کہ راوی روڈ پل کے اوپر نامعلوم موٹرسائیکل سوار دو افراد نے جو گھات لگائے بیٹھے تھے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا اور کلاشنکوف سے اندھادھند فائرنگ کر دی۔ دو گولیاں مولانا شمس الرحمن کے سر اور گردن میں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ان کے گن مین عدنان اور ٹرالی پر بیٹھا نوجوان ظفر جو جڑانوالہ کا رہائشی بتایا جاتا ہے زخمی ہو گئے۔ مولانا شمس الرحمن کی نعش اور دیگر دونوں زخمیوں کو میو ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کارکنوں کی بڑی تعداد میو ہسپتال ایمرجنسی کے باہر جمع ہو گئی اور کئی کارکن دھاڑیں مار کر روتے رہے۔ مشتعل افراد نے حکومت کیخلاف نعرے بازی کی، ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار اطلاع پر وہاں پہنچے اور صورتحال کنٹرول میں کرنے کیلئے اہلسنت والجماعت کے رہنمائوں سے مذاکرات کرتے رہے اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ اطلاعات کے مطابق حافظ شمس الرحمن کے گن مین اور راہ گیر کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ معلوم ہوا ہے کہ حافظ شمس الرحمن دو بیٹوں ایک بیٹی کے باپ تھے انہیں عرصہ سے دھمکیاں موصول ہورہی تھیں جبکہ ضلعی و صوبائی انتظامیہ کی جانب سے بھی انہیں محتاط رہنے کے لئے کہا گیا تھا۔ رات گئے مولانا معاویہ کی نعش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کے مطابق انہیں 2 گولیاں کمر تیسری گردن میں لگی جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ واقعہ کے بعد میو ہسپتال کے اندر اور گرد و نواح میں بھی سکیورٹی سخت کردی گئی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے جس پر نمبر پلیٹ تو لگی تھی لیکن اسے نوٹ نہیں کیا جا سکا۔ وزیراعلی پنجاب نے مولانا شمس کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ آئی جی پنجاب نے صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی اور لاہور کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر پولیس ناکے لگا کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ دریں اثناء سیاسی اور دینی رہنمائوں نے شمس الرحمن معاویہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قتل ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔ اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی جو بیرون ملک ہیں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ مولانا شمس الرحمن کا قتل اہلسنت والجماعت کیلئے عظیم نقصان اور سازش ہے، حکومت قاتلوں کو فی الفور گرفتارکرے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ شیعہ سنی فسادات کی آگ بھڑکانے کی سازش ہے۔ پنجاب حکومت کی سراسر غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ مجرموں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت فرقہ وارانہ قتل و غارت گری پروان چڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں بیرونی ہاتھ بھی ہو سکتا ہے، حکومت پنجاب کا فرض ہے کہ وہ اسے بے نقاب کرے۔ عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اہلسنت والجماعت کے رہنما مولانا شمس الرحمن کے بہیمانہ قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل قومی و ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔ حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی۔ جے یو آئی کے رہنمائوں مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا محمد امجد خان، مولانا جمیل الرحمن درخواستی اور دیگر نے کہا کہ پنڈی، کراچی اور لاہور کے واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ ملک میں بدامنی پیدا کرنے کے لئے سازشیں کی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ مولانا شمس الرحمن معتدل مزاج عالم دین تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ مذہبی رہنمائوں کا قتل ملک کو بدامنی کی طرف لیجانے اور فرقہ وارانہ فسادات کی سازش ہے، حکومت قاتلوں کو فوری گرفتار کرے، جماعت اہلحدیث کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ مولانا شمس الرحمن عظیم عالم دین تھے ان کا قتل انسانیت کا قتل ہے، مجلس احرار اسلام کے امیر سید عطاء المہیمن بخاری نے کہا کہ مولانا شمس کا قتل پنجاب حکومت کی نااہلی ہے، مجلس احرار کا آج ہونیوالا اجلاس منسوخ کردیا، دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت علماء کی ٹارگٹ کلنگ روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ وفاق المدارس کے قائدین مولانا سلیم اللہ خان، مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا مولانا شمس الرحمن کا قتل انتہائی افسوسناک ہے ان کی شہادت سے قیام امن کی کوششوں کودھچکا لگا تمام مکاتب فکر تحمل کا مظاہرہ کریں، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا پنجاب حکومت اور وفاقی وزارت داخلہ قتل و غارت کی بڑھتی وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام ہو چکیں جس سے ملک کی اندرونی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے۔ علماء کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ مولانا شمس کا قتل امن و امان خراب کرنے کی سازش ہے۔ دینی قوتیں متحد ہو کر سازش ناکام بنا دیں۔ مولانا شمس الرحمن کو قتل کر دئیے جانے کے واقعہ کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ مذہبی رہنمائوں کے حفاظتی انتظامات بڑھا دئیے گئے اور پولیس کے جگہ جگہ سکیورٹی کیلئے ناکے لگا دئیے گئے۔ سیالکوٹ میں ڈی ایس پی سٹی مقصود لون نے شہر بھر میں تھانوں کی پولیس کو مساجد اور اہم مقامات کے باہر تعینات کردیا اور مانیٹرنگ کرتے ہوئے شہری علاقوں کا خود معائنہ کیا اور احتجاج کے خطرہ کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری چوک علامہ اقبال میں بھی تعینات رہی۔ علاوہ ازیں اہلسنت والجماعت کے کارکنوں نے مولانا شمس الرحمن کے قتل پر رات کو مال روڈ پر مظاہرہ کیا اور نیلا گنبد چوک پر دھرنا دیا۔ کارکنوں نے زبردستی دکانیں بند کرا دیں اور توڑ پھوڑ کی، سی سی پی او چودھری شفیق نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔ تحقیقات کیلئے 2 ٹیمیں بنا دی ہیں واقعہ کے حوالے سے کافی شواہد ملے ہیں ملزموں کو جلد کٹہرے میں لائینگے۔ اہلسنت والجماعت کے کارکنوں نے اسلام آباد اور کراچی میں بھی احتجاج کیا اور ٹائر نذر آتش کئے۔ دریں اثناء مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کی خبر شیخوپورہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سینکڑوں کارکن صوبائی سینئر نائب صدر مولانا محمد اشرف طاہر، ضلعی صدر حافظ محمد اشفاق گجر کی قیادت میں بتی چوک میں جمع ہو گئے لاہور، شیخوپورہ روڈ، گوجرانوالہ، فیصل آباد روڈ کو مکمل طور پر رکاوٹیں کھڑی کرکے بلاک کردیا اور شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران ٹریفک کا نظام مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گیا۔ شیخوپورہ کے حساس مقامات پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی، کارکنوں نے رات گئے تک بتی چوک میں دھرنا دیا۔ علاوہ ازیں اہل سنت والجماعت پنجاب کے قائم مقام صدر مولانا محمد اشرف طاہر نے صوبائی صدر مولانا شمس الرحمن معاویہ کی شہادت کے واقعہ کے بعد پنجاب میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ آج پورے پنجاب میں مکمل ہڑتال ہو گی تمام کاروباری مراکز بند رہیں گے اور اتوار کو ملک بھر میں پرامن احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک کی ایما پر پاکستان میں علماء دیوبند کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور میں دن دیہاڑے مولانا شمس الرحمن معاویہ کا قتل ہونا پنجاب حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
نوائے وقت