ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے سنی ممالک پر الزام لگایا کہ یہ خوف پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کے بقول بعض لوگ اپنی تنگ نظری کی وجہ سے نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ تقسیم ہم سب کے لیے خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ شام میں تنازع فرقہ وارانہ بنیادوں پر شروع نہیں ہوا تھا لیکن اب یہ فرقہ وارانہ رخ اختیار کر گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق فرقہ واریت کی مخالفت میں تمام فریقین کو اپنے اختلافات بھول جانے چاہییں۔ انھوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ سنی عرب رہنما فرقہ واریت پر مبنی تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت دیگر عرب ریاستیں ایران پر فرقہ واریت کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتی ہیں۔
اردو ٹائمز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار