عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب قابض فوج نے سلواد کے مقام پر فلسطینیوں کے گھروں پر اندھا دھند چھاپے مار نہتے شہریوں کو زدو کوب کرنا شروع کیا۔ شہری صہیونی ریاستی دہشت گردی کےخلاف گھروں سے نکل آئے اور اسرائیلی فوج کی گاڑیوں پر سنگ باری شروع کردی۔ جواب میں قابض فوج نے ان پر لاٹھیاں چلائیں اور براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج نے نہتے شہریوں کو ہراساں کرنے کی حد کردی تھی جس کے بعد انہیں مجبورسڑکوں پر نکلنا پڑا ہے۔ وہ اسرائیلی فوج کی جانب سے گولیاں کھانے کے لیے تیار ہیں لیکن اپنے گھروں میں انہیں گھس کرخواتین اور بچوں کو زدو کوب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
خیال رہے کہ رام اللہ اور مغربی کنارے کے دوسرے علاقوں میں اسرائیلی فوج نے چھاپہ مار کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا ہے جس کے باعث فلسطینی شہری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار