دارالحکومت تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے مرکزی نمازخانوں کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے سکیورٹی حکام نے سنی شہریوں کو نمازعید قائم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
مقامی ویب سائٹ، اصلاح ویب، کی شائع کردہ خبر کے مطابق ’صادقیہ‘ اور ’سعادت آباد‘ نامی علاقوں میں بدھ سولہ اکتوبر میں سنی باشندوں کو اکٹھے ہونے نہیں دیاگیا جہاں انہیں نمازعید قائم کرنی تھی۔
ذرائع کے مطابق عید سے پہلے ہی بااثر سنی شخصیات، سابق اور حالیہ ارکان پارلیمنٹ اور سماجی کارکنوں نے متعلقہ حکام سے اہل سنت کی علیحدہ نمازعیدکی اجازت لینے کی کوشش کی ہے، بعض حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود انہیں نمازعید کی عظیم عبادت سے محروم رکھاگیا۔
یادرہے یہ چوتھا سال ہے کہ سکیورٹی اور صوبائی حکام کی رکاوٹوں اور غیرقانونی پابندیوں کی وجہ سے سنی برادری تہران سمیت بعض دیگر بڑے شہروں میں نمازعید سے محروم ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان