پاکستان جمعرات کے روز دہشت گردی کا شکار رہا اور ملک کے چاروں صوبوں کے دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں مبینہ تین دہشت گردوں سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔
جانی نقصان کے اعتبار سے سب سے خطرناک حملہ کوئٹہ میں کیا گیا جہاں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
کمشنر کوئٹہ عثمان گل نے چھ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹی سینٹر مارکیٹ کے قریب واقع پولیس اسٹیشن کے باہر ہونے والے دھماکے میں 35 افراد زخمی بھی ہوئے۔
پولیس افسر محمد محسن نے خبر رساں ادارے اے پی کو 20 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں متعدد دکانیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیے گئے دھماکے میں استعمال ہونے والا بم سائیکل میں نصب تھا جبکہ اس میں 6 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
دھماکوں کے اعتبار سے نسبتاً پرامن تصور کیا جانے والا صوبہ پنجاب بھی جمعرات کو دہشت گردوں کی زد میں آ گیا جہاں مشہور انار کلی بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ دودھ کی دکان کے باہر ہوا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز محمد رائے طاہر کے مطابق دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا تھا جس کے دوران کم از کم 11 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس نے ایک سرچ آپریشن کے دوران دو مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ڈی سی او لاہور نسیم صادق کا کہنا ہے کہ دھماکا 11 بجکر 35 منٹ پر ہوا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ایک کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
مزید براں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے منگھوپیر میں مبینہ دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام ہو گیا اور دھماکہ خیزمواد منتقل کرنے والے موٹر سائیکل پر سوار تینوں مبینہ دہشت گرد مواد پھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔
ایس ایس پی اورنگی کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکل پر سوار تین مبینہدہشت گرد دھماکہ خیزمواد منتقل کررہے تھے کہ دھماکا ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے تینوں مشتہ دہشت گرد مارے گئے اور موٹرسائیکل تباہ ہوگئی۔
ایک عرصے سے بدامنی کا شکار صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کو ایک بار پھر جمعرات کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی جہاں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر ایک ریمورٹ کنٹرول بم حملے میں تین اہلکار زخمی ہو گئے۔
ڈان نیوز کے مطابق، جمعرات کو پشاور کے نواح میں رنگ روڈ پر اچینی بریکر کے قریب لیوی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
ایس پی کینٹ کے مطابق لیوی اہلکار باڑہ اکا خیل میں پولیو ویکسی نیشن ٹیم کے ہمراہ سکیورٹی کے فرائض سر انجام دینے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ نشانہ بن گئے۔
دھماکے میں زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ایس پی کینٹ کے مطابق بم حملے میں میں دو کلو گرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
ابھی تک کسی نے بھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔
ڈان نیوز