تاہم حکومت اور حزب اختلاف کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے اور یوں غیر اہم سرکاری سروسز بند کرنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں جس سے سات لاکھ سے زیادہ افراد کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔ انہیں اب بغیر تنخواہ رخصت پر جانا ہوگا اور اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ جب یہ ڈیڈ لاک ختم ہوتا ہے تو انہیں اس عرصے کی تنخواہ ملے گی یا نہیں۔
ڈیڈ لائن کے خاتمے سے کچھ دیر قبل ایوانِ نمائندگان نے مسئلے کے حل کے لیے دونوں جماعتوں کے ارکان پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز دی تاہم ڈیموکریٹس نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے اور ’شٹ ڈاؤن‘ سے بچنا ممکن نہیں رہا۔
پیر کی شب بارہ بجنے سے چند منٹ پہلے وائٹ ہاؤس کے بجٹ افسر کی جانب سے وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
یہ گذشتہ 17 برس میں پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خیال رہے کہ 2010 میں منظور ہونے والے اس قانون کے بیشتر نکات کی توثیق ملک کی سپریم کورٹ کر چکی ہے اور وہ منگل سے ہر صورت میں نافذ العمل ہوں گے۔
یکم اکتوبر کو شٹ ڈاؤن کی صورت میں سرکاری سروسز کی بندش سے کل 21 لاکھ سرکاری ملازمین میں سے ایک تہائی کو کام روکنا پڑا ہے۔
اس سے قبل بل کلٹن دور میں بھی بجٹ کی منظوی نہ حاصل کیے جانے کی وجہ سے 28 روز تک مسلسل اسی صورت حال سامنا کرنا پڑا تھا۔
ٹی آر ٹی نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار