جرمنی کی وزارت معاشیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جرمنی کی کمپنیوں نے شام کو 1998 سے 2011 کے درمیان 360 ٹن کیمیائی مواد فراہم کیا جسے سول اور فوجی استعمال میں لایا جا سکتا تھا تاہم شام کو فراہم کئے جانے والے کیمیائی مواد کو اسلحے کی تیاری میں استعمال ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ جرمن حکام کا دعوی ہے کہ شام کو برآمد کیا جانے والا کیمیائی مواد نجی صنعتوں نے سول مقاصد کے لئے استعمال کیا۔
جرمنی کی جانب سے کیمیائی مواد فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نام نہیں بتائے گئے تاہم یہ کہا گیا ہے کہ مئی 2011 میں شام پر لگنے والی معاشی پابندیوں کے بعد سے شام کو ہر قسم کی بر آمدات روک دی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ شام پر امریکا اور جرمنی سمیت بیشتر یورپی ممالک نے الزام عائد کیا تھا کہ بشار الاسد کی حامی افواج نے حکومت مخالف مظاہرین پر 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید