مغرب کے بعد گھپ اندھیرے میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں جبکہ علاقے میں مچھروں کی بہتات کی وجہ سے خدشہ ہے کہ امدادی کارکن ملیریا اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر آواران میں رہائشی ہوٹل اور کھانے پینے کے لیے کوئی ریسٹورنٹ موجود نہیں، ریسٹورنٹ کے نام پر صرف چٹائی ہوٹل ہے جس میں صرف دوپہر کو کھانا تیار کیا جاتا ہے جبکہ رات کے وقت پورے آواران میں کہیں بھی کھانا دستیاب نہیں ہوتا۔ رہائش کیلیے امدادی کارکنوں نے مسجدوں اور کھلے مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔
تاہم وہاں پر بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ رات بھر مچھروں سے لڑتے ہوئے رات گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ضلعی اتنظامیہ کے ریسٹ ہاؤس میں بھی بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے،24 گھنٹے میں صرف چند گھنٹے کیلیے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور اس دورانامدادی کارکن بمشکل اپنے موبائل چارج کرپاتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الخدمت اور دیگر فلاحی تنظیموں کے کارکنان سیلاب سے متاثرہ افراد کی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم سہولتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیا جانے والا کیمپ دیگر تمام فلاحی اداروں کیلیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے، فلاح انسانیت کے ذمہ داروں نے زلزلہ زدہ افراد کو دو وقت کھانا فراہم کرنے کیلیے اپنا کچن بھی قائم کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…