- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

تیسری قوت حرکت میں، پشاور بازار میں دھماکہ39 افراد جاں بحق

قصہ خوانی بازار میں پولیس اسٹیشن کے سامنے دھماکے کے نتیجے میں اب تک 39 افراد جاں بحق جبکہ 90 سے زائد  زخمی ہوگئے ہیں۔

 

 

 

 

تیسری قوت حرکت میں آگئی ہے اور تجزیہ نگاروں کے مطابق اب جب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت تحریک طالبان سے مذاکرات کیلیے متفق ہے بعض عناصر تخریبی کارروائیاں تیز کرکے امن مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

نیوز ایجنسیز کے مطابق نامعلوم افراد نے قصہ خوانی بازار میں خان رازق شہید المعروف کابلی پولیس اسٹیشن کے سامنے کھڑی بارودی مواد سے بھری گاڑی میں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے دھماکا کیا، دھماکے کی شدت اس قدر تھی کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی، دھماکے سے 4 مارکیٹیں مکمل طور پر تباہ جبکہ ایک مسجد اور پولیس اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکے کے فوری بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچایا جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

جاں بحق افراد میں 6 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس اورسیکیورٹی فورسز کی جانب سے جائے وقوعہ کی جانب آنے والی تمام سڑکوں اور گلیوں کو سیل کرکے سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ مزید دھماکوں کے خدشے کے پیش نظر علاقے کو خالی کرالیا گیا ہے۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل یونٹ شفقت ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے اپنی کارروائی کے لئے پوری گاڑی کو ہی بم میں تبدیل کردیا تھا اس دھماکے میں 2 سو سے 225 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اور اسے ریموٹ کنٹرول سے تباہ کیا گیا۔

چیرمین تحریک انصاف عمران خان کی پشاور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کردی ہے، دوسری جانب صدر مملکت ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آسف علی زرداری، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین ، عوامی نیشنل پارٹی اور امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی جانب سے بھی حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو اسی علاقے میں واقع ایک گرجا گھر میں دھماکے سے 83 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، دھماکے کے وقت گرجا گھر میں جاں بحق افراد کے لئے خصوصی دعائیہ تقریب جاری تھی۔

یاد رہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے تو پشاور میں گزشتہ آٹھ دن کے تینوں جان لیوا حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہےاور ابھی تک اس بم حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کیہے۔

ایجنسیز