Categories: پاکستان

پاکستان ملا عبدالغنی برادر کو اسی ماہ رہا کردے گا

 

 

 

پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں امن کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے طالبان کے نائب کمان دار ملا عبدالغنی برادر کو اسی ماہ رہا کردے گا۔

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے منگل کو بتایا کہ ’’اصولی طور پر ہم نے انھیں (ملا عبدالغنی برادر) کو رہا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے وقت کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔ یہ بہت جلد ہونا چاہیے اور میرے خیال میں اسی ماہ میں ان کی رہائی ہوجائے گی‘‘۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ملا عبدالغنی برادر کو براہ راست افغانستان کے حوالے نہیں کیا جائے گا جیسا کہ بعض لوگ کابل میں امید لگائے بیٹھے ہیں بلکہ اس کے بجائے انھیں پاکستان ہی میں رہا کیا جائے گا۔
پاکستان نے قبل ازیں جنوری 2013ء میں بھی ملاعبدالغنی برادر سمیت اپنی جیلوں میں قید یا سکیورٹی اداروں کے زیرحرست تمام افغان طالبان کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک ان کی رہائی ممکن نہیں ہوئی ہے۔
حکومت پاکستان اور افغان امن کونسل کے درمیان جنوری کے اوائل میں اسلام آباد میں مذاکرات میں طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کے تحت پاکستان میں زیرحراست تیرہ طالبان قیدیوں کو رہا کردیا گیا تھا۔ افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ اس سمجھوتے کا خیرمقدم کیا تھا لیکن طالبان کے ایک عہدے دار نے اس اقدام کو افغانستان میں قیام امن سے غیرمتعلق قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔
افغان حکومت ماضی میں پاکستان سے زیر حراست سنئیر طالبان لیڈروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس طرح جنگ زدہ ملک میں گذشتہ گیارہ سال سے جاری خونریزی کے خاتمے اور قیام امن میں مدد مل سکتی ہے۔
یادرہے کہ ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے 2010ء میں پاکستان کے فوجی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ تب سے پاکستانی حکام کے زیر حراست ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کہاں رکھا جارہا ہے؟.
ملا برادر طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے دست راست تھے۔ وہ ماضی میں افغانستان پر قابض غیر ملکی فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ کی قیادت کرتے رہے تھے۔ افغان حکام اور امریکا کو توقع ہے کہ ملا بردار ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں کی فوجوں کا 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے انخلاء مکمل ہوگا لیکن اس سے قبل وہ افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں مگرغیر ملکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد طالبان کی امن عمل میں شرکت کے بغیر جنگ زدہ ملک میں قیام امن ایک خواب نظر آرہا ہے اور بظاہر افغانستان میں حالات کی بہتری کے امکانات کم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago