
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے سات طالبان قیدی رہا کر دیے ہیں جبکہ افغان امن جرگے کا کہنا ہے کہ ان طالبان کو رہا کرنے سے پہلے ان سے نہ تو مشاورت کی گئی اور نہ ہی پیشگی اطلاع دی گئی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان طالبان کو ’افغان کی مفاہمت کے عمل میں مزید مدد دینے کے لیے‘ رہا کیا گیا ہے۔ پاکستان نے یہ قدم اس وقت اٹھایا ہے جب حال ہی میں افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس وقت کہا تھا کہ وہ افغانستان میں استحکام کے لیے مدد کرنا چاہتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ رہا ہونے والے قیدیوں میں عبدالسلام بریالی، منصور داد اللہ، سید ولی، کریم آغا، محمد زئی، گُل محمد، شیر افضل شامل ہیں۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار داؤد اعظمی نے سات طالبان کمانڈروں کی رہائی پر افغان حکام سے بات کی اور ان کے مطابق افغان حکومت اور افغان امن جرگے کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت نے ان طالبان کو رہا کرنے سے پہلے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی اور انھیں اس کی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی۔
افغان حکومت کا اصرار ہے کہ لندن میں ہونے والے سہ فریقی برطانیہ، پاکستان افغانستان مذاکرات میں پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ اگر طالبان قیدی رہا کیے جائیں گے تو اس کے بارے میں افغان حکومت کو اعتماد میں لیا جائے گا اور ان رہائیوں میں ان کی مرضی شامل ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ افغان امن جرگے کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ پچھلے سال پاکستان نے جن چھبیس افغان طالبان رہنماؤں کو رہا کیا تھا ان میں سے ایک کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں تھا جو افغان حکومت نے پاکستان حکومت کے حوالے کی ہے۔
بی بی سی کے طاہر خان نے کہا کہ ’ان سات افراد کی رہائی سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا اور اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے ان میں سے منصور داد اللہ کے علاوہ سب غیر معروف ہیں۔ منصور داداللہ کو تو طالبان کی اعلیٰ ترین قیادت صاف لفظوں میں علیحدہ قرار دے چکی ہے‘۔
طاہر خان نے کہا کہ جب طالبان کو ان رہا کیے جانے والے افراد کے نام بھجوائے گئے تو انہوں نے ان کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
افغان امن جرگے کے ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک نے بھی پاکستان سے رہائی پانے کے بعد نہ تو امن جرگے سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی امن جرگے کے لوگوں کو یہ علم ہے یہ طالبان کہا ہیں۔
منصور داد اللہ کے بھائی ملا داد اللہ سنہ دو ہزار سات میں افغانستان میں جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد ان کے چھوٹے بھائی منصور نے ان کے گروپ کی سربراہی سنبھال لی تھی۔
منصور داد اللہ سنہ دو ہزار آٹھ سے پاکستان کی قید میں تھے۔ انھیں سنہ دو ہزار آٹھ میں افغانستان سے پاکستان آتےہوئے صوبہ بلوچستان میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ منصور کی گرفتاری طالبان قیادت میں آپس کے اختلافات کا نتیجہ تھی اور کچھ طالبان رہنما چاہتے تھے کہ ملا منصور کو گرفتار کر لیا جائے۔
افغان ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے مطابق رہائی پانے والے طالبان یا تو اب تک پاکستان میں ہی قیام پذیر ہیں اور یا انھوں نے نیٹو اور امریکی افواج سے برسرِپیکار طالبان گروہوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اب تک رہا کیے جانے والے افغان طالبان کا امن کے عمل پر کوئی مثبت اثر نہیں ہوا ہے۔
افغان حکومت کی طرف سے فراہم کردہ فہرست میں سب سے اہم نام ملا عبدالغنی برادر کا ہے جو طالبان رہنما ملا عمر کے بھائی ہیں۔
بی بی سی کے ذرائع نے کہا ہے کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ملا برادر کو سعودی عرب یا عرب امارات منتقل کر دیا جائے تاہم پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے اس قسم کی کسی تجویز کی تصدیق نہیں کی۔
اس سے قبل جون کے مہینے میں قطر میں ہونے والے امن مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستان میں طالبان کو پناہ گاہیں حاصل ہیں، جو افغانستان میں فساد کی بنیادی وجہ ہیں۔
پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اندر موجود عناصر پر طالبان کی حمایت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی حکومت اس کی شدت سے تردید کرتی ہے۔
حامد کرزئی نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرے کیوں کہ اس کا طالبان پر اثر و رسوخ ہے۔
افغان صدر خاص طور پر طالبان کے سیکنڈ ان کمان ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کے متمنی تھے، جنھیں 2010 میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بی بی سی اردو