شام کے تنازعے پر امریکہ اور روس میں دوریاں برقرار

 

 

 

جی20 سربراہی اجلاس کے موقعے پر روس کے صدر ولادی میر پوتن اور امریکی صدر براک اوباما کی ملاقات کے بعد بھی شام کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف ختم نہیں ہو سکے۔

جی20 سربراہی اجلاس کے اختتام پر صدر براک اوباما نے اعتراف کیا کہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر شام پر حملہ کرنے کے بارے میں عالمی رہنماؤں کی رائے منقسم تھی۔
قبل ازیں سینٹ پیٹرز برگ میں جی20 ممالک کے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر براک اوباما سے غیر متوقع ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صدر پوتن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شام پر حملے کے پورے مشرق وسطیٰ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
صدر پوتن نے کہا کہ شام کے مسئلہ پر بات چیت جمعرات کی شب آدھی رات تک جاری رہی لیکن کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی صدر اوباما سے ہونے والی ملاقات میں بھی شام کا مسئلہ ہی زیر بحث رہا۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سنا لیکن وہ ایک دوسرے سے متفق نہیں ہو سکے۔
صدر براک اوباما نے جی20 کے سربراہی اجلاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شام پر حملہ کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر عالمی پابندیوں کو برقرار رکھنے کے بارے میں جی20 اجلاس میں مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا۔
صدر اوباما نے کہا کہ جی20 ملکوں کے رہنماؤں میں اس بات پر اتفاق تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اختلاف صرف اس بات پر تھا کہ اس پر کیا رد عمل اختیار کیا جائے۔
صدر اوباما نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل غیر موثر ہو جائے تب بھی اس معاملے پر کارروائی ضروری ہے کیونکہ عالمی سطح پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
صدر پوتن نے وضاحت کی کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شدت پسندوں کی طرف سے ایک ایسی حرکت ہے جس پر وہ بیرونی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
مشترکہ بیان
اسی دوران جی20 سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے گیارہ ممالک نے شام کے بارے میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں شام میں ہونے والے کیمیائی حملے کے خلاف ’مضبوط بین الاقوامی ردِعمل‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ 21 اگست کو دمشق کے مضافات میں ہونے والے کیمیائی حملے کی ذمے دار شامی حکومت ہے۔
بیان کا مسودہ امریکہ نے تیار کیا تھا اور اس پر آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، سعودی عرب، سپین، ترکی، برطانیہ اور امریکہ نے دستخط کیے ہیں۔
بیان میں کیمیائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے:
’ہم عالمی قوانین اور ضمیر کی اس سنگین خلاف ورزی پر مضبوط عالمی ردِعمل کا مطالبہ کرتے ہیں، جس سے یہ واضح پیغام جائے کہ اس قسم کی سفاکی کا آئندہ ارتکاب نہ ہو سکے۔ جنھوں نے یہ جرائم کیے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔‘
خبررساں ادارے روئٹرز نے ایک سینیئر امریکی عہدے دار کا بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ یہ بیان شام کے خلاف فوجی کارروائی کی واضح الفاظ میں تو نہیں لیکن مضمر انداز میں توثیق کرتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اس بحران پر صرف سلامتی کونسل کے ذریعے ہی کارروائی کرنے کا مقصد ہو گا کہ برطانیہ نے اپنی اخلاقی اور خارجہ پالیسی کی ذمہ داریاں روس کے ویٹو پر رہن رکھ دی ہوں۔
امریکہ کے علاوہ فرانس، ترکی، کینیڈا بھی شام پر حملے کے حامی ہیں جبکہ یورپی برادری نے اور پوپ نے بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

4 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago