دارالعلوم زاہدان میں نئے تعلیمی سال کاآغاز

 

 

 

ایرانی اہل سنت کے سب سے بڑے دینی ادارہ، جامعہ دارالعلوم زاہدان، میں صحیح بخاری کی پہلی حدیث کی قراء ت سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا، افتتاحی تقریب میں تمام طلبہ واساتذہ نے شرکت کی۔

 

’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، سوموار پچیس شوال المکرم کی صبح ایک تقریب میں جامعہ کے مہتمم وشیخ الحدیث شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بخاری شریف کی پہلی حدیث پڑھائی جس کے بعد باقاعدہ تعلیمی سال 1434-35ھ۔ق کا آغاز ہوگیا۔

مذکورہ تقریب جامعہ کے احاطے میں واقع جامع مسجدمکی میں منعقد ہوگئی جس میں دارالعلوم زاہدان کے اساتذہ وطلبہ کے علاوہ شہر کے بعض دیگر دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ نے بھی پرجوش شرکت کی۔

مولانا عبدالحمید نے دینی مدارس کے وجود کوخیر وبرکت کا باعث قرار دیتے ہوئے صحیح بخاری کی پہلی حدیث کی قراء ت کے بعد اعمال میں اخلاص وللہیت کوجسم کیلیے روح کی مانند قرار دیا۔ انہوں نے کہا: امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کا آغاز ’کتاب الوحی‘ سے کیا جس کا مفہوم یہی ہے کہ تمام علوم کا منبع ومصدر وحی ہی ہے، صرف علم وحی پر اعتماد کیاجاسکتاہے۔

استاذالحدیث جامعہ دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: بخاری شریف کی پہلی حدیث ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ کی ہے جو نیت اور حصول علم میں اخلاص کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔ اعمال کی صحت اور قبولیت کا دارومدار اخلاص پر ہے۔ بعض علمائے کرام نے اخلاص کو دین کاایک تہائی حصہ قرار دیاہے۔ اسی لیے جس طرح جسم روح کے بغیر بے کار ہے، اعمال بھی اخلاص کے بغیر ہیچ ہیں۔

انہوں نے کہا: اعمال سے مقصد نیک اعمال ہی ہیں؛ لہذا اگر کوئی برائی اور گناہ کا ارتکاب کرے اور یہ کہے کہ میری نیت ٹھیک تھی تواس کی بات غیرمعقول اور مردود ہے۔ حتی کہ بعض علماء نے کہا ہے گناہ کرکے بندہ ’فسق‘ کے مرتکب ہوتا ہے اور اس کو صحیح قرار دینے کی وجہ سے ’کفر‘ کا بھی خطرہ ہے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: اخلاص کا تعلق نیت سے ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی قرآن وسنت کی اتباع وپیروی از حد ضروری ہے۔ اگر کوئی عمل قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہو تو اخلاص کے باوجود بھی اس کی قبولیت کی امید نہیں رکھنی چاہیے، لہذا اخلاص کے ساتھ ’صدق‘ بھی ضروری ہے۔ ہجرت، جہاد، علم و دیگر اعمال وعبادات سے اللہ تعالی کی رضامندی اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب نیت ٹھیک ہو۔ نیت کی درستگی کسی نیک عمل سے پہلے، دوران عمل اور اس کے بعد ضروری ہے؛ اگر نیک عمل کے بعد بندہ اپنی تعریفیں کرے اور ریا شامل ہوجائے، پھربھی وہ عمل برباد ہوجائے گا۔

شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان کے صدر نے تقریب کے آخرمیں طلبہ واساتذہ کوترغیب دی کہ اچھائی اور اخلاص میں معاشرے کے لیے مثالی کردار ادا کریں اور ہرحال میں اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھیں؛ پڑھنا پڑھانا دونوں اللہ کیلیے ہوں۔

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago