- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

مصر: اخوان المسلمین سے منسلک 36 قیدی ہلاک

 

 

 

مصر میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق قاہرہ کے ایک مضافاتی علاقے میں منتقلی کے دوران فرار کی کوشش کرنے والے 36 قیدی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان قیدیوں کا تعلق اخوان المسلمین سے بتایا جا رہا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے پہلے کہا تھا کہ وہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں تاہم بعد میں حکام کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں آنسو گیس کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
اس سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے خبردار کیا ہے کہ فوج ملک میں جاری تشدد کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔
جنرل السیسی نے فوج اور پولیس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں سب کے لیے جگہ ہے مگر تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کی جانب سے احتجاج پر کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔
دوسری جانب اتوار کو اخوان المسلمین اور فوجی بغاوت کے مخالف اتحاد نے قاہرہ کے مختلف علاقوں میں مزید احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا مگر اب کچھ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ریلیاں اور مظاہرے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریلیاں اس لیے منسوخ کی ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ مختلف چھتوں پر نشانہ باز بیٹھے ہوں گے۔
اس سے قبل اتوار کو ہی یورپی یونین نے مصر کو خبردار کیا کہ وہ آئندہ دنوں میں مصر کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے گی۔
ایک بیان میں یورپی یونین نے کہا ہے کہ جمہوریت اور بنیادی حقوق کے مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں خون خرابے سے دبایا جائے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ تشدد اور خون خرابے کی کوئی توجیح نہیں ہے اور نہ ہی اسے معاف کیا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین نے مصر کے لیے اس سال اور گزشتہ سال کئی ارب ڈالر کی امداد اور قرضے منظور کیے ہیں۔

دوسری جانب مصر کی کابینہ اتوار کو ایک خصوصی اجلاس میں ملک میں جاری بحران پر غور کر رہی ہے جہاں حالیہ دنوں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مصر کے عبوری وزیراعظم نے معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی جماعت اخوان المسلمین کو قانونی طور پر تحلیل کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
اخوان المسلمین کے اہم رہنما محمد مرسی کے حمایتی ہیں جن کی برطرفی کے خلاف مصر میں مظاہرے جاری ہیں۔
مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے بدھ کو اخوان المسلمین کے احتجاجی دھرنوں پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد سے اخوان المسلمین نے روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حکام کے مطابق جمعہ کو پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 173 ہو گئی ہے۔
مصر کی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ملک میں جاری مظاہروں میں اخوان المسلمین کے ایک ہزار سے زائد ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مصر کے عبوری وزیر اعظم نے نامہ نگاروں کو بتایا ’ان لوگوں کے ساتھ کوئی مصالحت نہیں ہوگی جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جنھوں نے ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں۔‘
قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ مصر کے عبوری وزیرِاعظم کی اخوان المسلمین کو تحلیل کرنے کی تجویز سے مصر کو کنٹرول کرنے کی جہدوجہد میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا گیا تو اس گروپ کے لوگوں کو زیر زمین چلے جانے پر مجبور ہونا پڑے گااور ان کے فنڈنگ کے ذرائع کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
معزول صدر مرسی کی حکومت سے بہت ہی قریب ہونے کے باوجود بھی اخوان المسلمین تکنیکی طور پر ایک کالعدم تنظیم رہی ہے۔ اسے سنہ 1954 میں مصر کی فوجی قیادت نے کالعدم قرار دیا تھا لیکن حال میں اس نے خود کو ایک غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹر کرایا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں گرجا گھروں، ہسپتالوں اور دیگر عوامی سہولیات پر حملے کی سخت مذمت کی ہے اور ان کے مطابق یہ حملے قابل قبول نہیں ہیں۔
بان کی مون کا خیال ہے کہ اس خطرناک صورت حال میں مصر کی اولین ترجیحات مذید جانی نقصان کو روکنا چاہیے۔
بان کی مون نے فریقین کو زیادہ سے زیادہ ضبط کے مظاہرے کی بات کہی اور حکام سے ایک ایسے ’قابل عمل منصوبے پر عمل کرنے کے لیے کہا جس سے تشدد پر قابو پایا جاسکے اور سیاسی عمل کو شروع کرنے کی بات کہی جسے تشدد نے یرغمال بنا لیا ہے‘۔

بی بی سی اردو