’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق مہتمم دارالعلوم زاہدان و خطیب اہل سنت زاہدان کے دفتر سے شائع بیان میں مصری عوام کے انقلاب کو اسلامی بیداری کا ایک نمونہ قرار دیا گیا ہے جوفلسطین وبیت المقدس پرصہیونی قبضہ اور جابرو غلام حکام کی ظالمانہ پالیسیوں کے ردعمل میں رونماہوا تھا۔
مذمتی بیان کے ایک حصے میں آتاہے: ’مصرمیں پہلی بار کسی قانونی اورجمہوری اصولوں کے مطابق انتخابات میں ایک اسلام پسند صدر منتخب ہوا، لیکن فوجیوں نے صہیونی طاقتوں اور بعض علاقائی ملکوں کی سازش سے اس حکومت کے خلاف بغاوت کی۔اس بغاوت کے مخالفین کواب لہولہاں کیاجارہاہے اور ان کی تحریک کچلنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں جس سے انسانی احساسات مجروح ہوگئے ہیں۔‘
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے اپنے بیان میں عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، علاقائی طاقتوں اور تمام روشن خیال لوگوں سے درخواست کی ہے عملی اقدامات اٹھا کر لوگوں کی جانیں مصر میں بچائیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے مصر میں اسلام پسند عوام کے قتل عام بند ہونے تک دعا اور قنوت نازلہ پڑھنے کا اہتمام کریں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان