’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق مہتمم دارالعلوم زاہدان و خطیب اہل سنت زاہدان کے دفتر سے شائع بیان میں مصری عوام کے انقلاب کو اسلامی بیداری کا ایک نمونہ قرار دیا گیا ہے جوفلسطین وبیت المقدس پرصہیونی قبضہ اور جابرو غلام حکام کی ظالمانہ پالیسیوں کے ردعمل میں رونماہوا تھا۔
مذمتی بیان کے ایک حصے میں آتاہے: ’مصرمیں پہلی بار کسی قانونی اورجمہوری اصولوں کے مطابق انتخابات میں ایک اسلام پسند صدر منتخب ہوا، لیکن فوجیوں نے صہیونی طاقتوں اور بعض علاقائی ملکوں کی سازش سے اس حکومت کے خلاف بغاوت کی۔اس بغاوت کے مخالفین کواب لہولہاں کیاجارہاہے اور ان کی تحریک کچلنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں جس سے انسانی احساسات مجروح ہوگئے ہیں۔‘
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے اپنے بیان میں عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، علاقائی طاقتوں اور تمام روشن خیال لوگوں سے درخواست کی ہے عملی اقدامات اٹھا کر لوگوں کی جانیں مصر میں بچائیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے مصر میں اسلام پسند عوام کے قتل عام بند ہونے تک دعا اور قنوت نازلہ پڑھنے کا اہتمام کریں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید