’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق مہتمم دارالعلوم زاہدان و خطیب اہل سنت زاہدان کے دفتر سے شائع بیان میں مصری عوام کے انقلاب کو اسلامی بیداری کا ایک نمونہ قرار دیا گیا ہے جوفلسطین وبیت المقدس پرصہیونی قبضہ اور جابرو غلام حکام کی ظالمانہ پالیسیوں کے ردعمل میں رونماہوا تھا۔
مذمتی بیان کے ایک حصے میں آتاہے: ’مصرمیں پہلی بار کسی قانونی اورجمہوری اصولوں کے مطابق انتخابات میں ایک اسلام پسند صدر منتخب ہوا، لیکن فوجیوں نے صہیونی طاقتوں اور بعض علاقائی ملکوں کی سازش سے اس حکومت کے خلاف بغاوت کی۔اس بغاوت کے مخالفین کواب لہولہاں کیاجارہاہے اور ان کی تحریک کچلنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں جس سے انسانی احساسات مجروح ہوگئے ہیں۔‘
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے اپنے بیان میں عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، علاقائی طاقتوں اور تمام روشن خیال لوگوں سے درخواست کی ہے عملی اقدامات اٹھا کر لوگوں کی جانیں مصر میں بچائیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے مصر میں اسلام پسند عوام کے قتل عام بند ہونے تک دعا اور قنوت نازلہ پڑھنے کا اہتمام کریں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار