گوانتانامو: بھوک ہڑتال جاری، طبی عملے میں اضافہ

امریکا نے خلیج گوانتانامو کے حراستی مرکز میں قیدیوں کی طویل ہوتی ہوئی بھوک ہڑتال سے نمٹنے کے لیے وہاں تعینات طبی عملے کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
فوجی ترجمان لیفٹینینٹ کرنل سیموئل ہاؤس کا کہنا ہے کہ اختتامِ ہفتہ پر نرسوں اور طبی عملے کے تقریباً چالیس اہلکاروں کو کیوبا میں گوانتانامو بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت 166 قیدیوں میں سے 100 بھوک ہڑتال پر ہیں جن میں سے 21 قیدیوں کی حالت نازک ہے اور انہیں ڈاکٹر ناک کے ذریعے خوراک دے رہے ہیں۔
جیل گوانتانامو بے میں بھول پڑتال کرنا عام ہے لیکن حالیہ بھوک پڑتال کا سلسلہ اب تک کا سب سے بڑا ہے۔
ان قیدیوں نے تقریباً تین ماہ قبل مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی پر بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا لیکن یہ ہڑتال بعد میں غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھنے اور قید کی جگہ کا انتہائی غیر مناسب ماحول ہونے کی وجہ سے طول پکڑ گئی۔
گوانتانامو کے حکام اس الزام سے انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے قیدخانوں کی تلاشی کے دوران قرآن کی بےحرمتی کی تھی۔
سولہ اپریل کو بعض قیدیوں کو مشترکہ قیدخانوں سے نکال کر دوسرے کمروں میں منتقل کرنے کے مسئلے پر قیدیوں اور محافظوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا تھا جب قیدیوں نے نگرانی کے کیمروں اور کھڑکیوں کو ڈھانپ دیا تھا۔
حکام کے مطابق بعض قیدیوں نے جیل میں ملنے والی چیزوں سے ہتھیار بنا رکھے تھے، اور یہ کہ محافظوں کی طرف سے اس کے جواب میں ان پر چار غیرمہلک گولیاں چلائی گئیں۔
قیدیوں کی نمائندگی کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس کی کشیدگی کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوج یہاں موجود قیدیوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔
اطلاعات کے مطابق گوانتانامو میں موجود تقریباً ایک سو قیدیوں کو آزاد کیے جانے کے لیے منظوری دی جا چکی ہے لیکن وہ کانگریس کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں اور ان کے اپنے ملکوں میں برے سلوک کے خدشے کے پیشِ نظر اب بھی وہاں قید ہیں۔
گوانتانامو میں حراستی مرکز 2002 میں کھولا گیا تھا اور وہاں امریکہ پر نائن الیون حملوں کے بعد انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیوں میں پکڑے جانے والے افراد کو رکھا گیا ہے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago