اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے سوموار کو جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے وادی تیراہ میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد مسلح جنگجو مارے گئے ہیں۔تاہم ان کی حقیقی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔
سکیورٹی فورسز کے اہلکار وادی تیراہ کے علاقے اکاخیل میں کالعدم سخت گیر تنظیم لشکر اسلام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ انھوں نے توپخانے سے بھی جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور زمینی دستوں نے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے میدان، اکاخیل اور باغ کے علاقوں میں لشکر اسلام اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے متعدد ٹھکانوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ان علاقوں میں ان کی ہتھیار بند جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے اور وہ گذشتہ دوروز سے فوج کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان میں لشکر اسلام کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کی تصدیق کی ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو اس مرحلے میں لڑائی میں شریک نہیں ہیں۔تاہم اگر ضرورت پڑی تو ٹی ٹی پی کے جنگجو لشکر اسلام کی حمایت کریں گے۔
احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ انھیں لشکراسلام کے ایک کمانڈر سمیت پانچ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے اور بعض جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔البتہ انھوں نے مرنے والوں اور زخمیوں کی حقیقی تعداد بتانے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ وادی تیراہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
سکیورٹی فورسز نے وادی تیراہ میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی کئی ماہ قبل منصوبہ بندی کی تھی اور اس کا بڑا مقصد جنگجوؤں کے مضبوط ٹھکانوں کا قلع قمع کرنا تھا۔ اکاخیل کا علاقہ وادی تیراہ میں اورکزئی اور خیبر ایجنسی کی سرحد کے سنگم پر واقع ہے اوریہاں دونوں ایجنیسوں کی سرحدیں ملتی ہے۔پاکستانی فوج نے جمعہ کوخیبرایجنسی میں جنگجوٶں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور اب تک ان کے متعدد ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان