- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

نائن الیون کے بعد 49 ہزار پاکستانیوں کی ہلاکت کا انکشاف

امریکا میں ہونے والے نائن الیون کے حملوں کے بعد سے اب تک 49ہزار پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں ان میں فوجی بھی شامل ہیں۔

یہ انکشاف پاکستانی خفیہ اداروں کے وکیل راجا ارشاد کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں ہوا۔
عدالت عظمی نے خفیہ اداروں سے گزشتہ پانچ برس کی رپورٹ طلب کی تھی تاہم اس رپورٹ میں نائن الیون کے بعد کی صورت حال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے میں صرف 3 ہزار دہشت گرد مارے گئے جب کہ اس کے مقابلے میں دگنی تعداد میں سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اب فرقہ وارانہ تشدد سے بھرپور کارروائیوں کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔
راجا ارشاد نے دہشت گردوں کی سی ڈیز بھی عدالت میں پیش کیں۔
جمع کرائی جانے والی رپورٹ کے مطابق2008ء میں دہشت گردوں نے فاٹا کے 34 فیصد علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا، حکومت کی صرف 31 فیصد علاقوں میں رٹ موجود تھی۔
سال 2008ء سے 2013ء تک 235 خود کش حملے ہوئے۔2 ہزار 257 راکٹ حملے اور4 ہزار 256 بم حملے ہوئے،5 سال کے دوران 3 ہزار دہشت گرد مارے گئے جب کہ ایک ہزار 228 دہشت گرد زخمی ہوئے، 5 ہزار 152 سویلین ہلاک اور 5 ہزار 676سویلین زخمی ہوئے۔
ایک ہزار 479 فوجی ہلاک، 5 ہزار 745 زخمی جب کہ ایف سی کے 675 اہل کار ہلاک اور ایک ہزار 978 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کےمطابق 5سال کے دوران شورش زدہ علاقوں میں 6 ہزار سرچ آپریشن ہو ئے۔ نائن الیون کے بعد اب تک 49 ہزار سویلین اور فوجی دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بن چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2007ء اور2008ء میں دہشت گردوں نے پاکستان کے آئین اور رٹ کو چیلنج کیا،سال 2008ء میں دہشت گردوں نے سوات میں 31 فیصد علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اب فرقہ وارانہ تشدد سے بھرپور کارروائیوں کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔

دی ٹرائب نیوز