اس اعلان سے ایک طویل عرصے سے جاری مسلح جدوجہد ختم ہوجائے گی۔
انہوں نے ترک حکومت پر بھی زوردیا ہے کہ وہ امن عمل کو مستقل بنانے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرے اور کرد باغیوں کے ہتھیار ڈالنے اور ترکی سے ان کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات کرے۔
علیحدگی پسند کرد باغیوں نے 1984ء سے ترک حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔
ان کی مسلح بغاوت اور ترکی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں45 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
DW
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان